Type to search

تجزیہ

پمرا کے قیام کی منظوری اور حاکم وقت کے قصیدے کہنے سے انکار کرنے والی صحافت

بالآخر حکومت وقت نے اپنے ارمانوں کو پورا کرتے ہوئے پمرا (PMRA) کے ادارے کی تشکیل کی منظوری دے دی۔ پمرا کا یہ ادارہ اب الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی نگاہ رکھے گا اور نئے قواعد و ضوابط بنائے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت پر چونکہ تنقید بیحد گراں گزرتی ہے اس لئے اقتدار میں آتے ہی اس نے اشتہارات بند کر کے قومی خزانے کے پیسے بچانے کا نعرہ لگا کر میڈیا ہاؤسز اور اشاعتی اداروں کو مالی نقصان پہنچایا۔ پاکستان میں صحافتی اداروں کو مالی گزند پہنچا کر انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔

آمریتوں میں صحافت کو دبانے کی کوششیں

قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی وفات کے صرف دو ماہ بعد ہی پبلک سیفٹی آرڈینینس جاری کر کے پاکستان کے پریس کو قابو میں لانے کی کوشش کی گئی اور اس کے نتیجے میں درجنوں اخبارات بند ہوئے۔ ایوب خان نے 1962 میں پی پی او (پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس) کا اجرا کر کے پہلے صحافتی اداروں کو معاشی بحران میں مبتلا کیا اور جب وہ گھٹنے ٹیکتے ہوئے اس سے اشتہارات لینے پر مجبور ہوئے تو ایوب نے نہ صرف من مانی سینسرشپ عائد کر ڈالی بلکہ نیوز ایجنسیوں کو قومیانے کا عمل بھی تیز کر دیا۔ ایوب خان 1968 میں چلا گیا لیکن صحافت پر عائد قدغنیں اور اس کا کالا قانون بدستور اپنی جگہ موجود رہا۔ یہ انہی قدغنوں کی مہربانی تھی کہ جب مشرقی پاکستان سلگ رہا تھا تو زیادہ تر پاکستانی اخبارات وہاں سب اچھا ہے کا راگ الاپ رہے تھے۔ یہاں تک کہ سقوط ڈھاکہ سے ایک روز قبل تک بھی ہمارے اخبارات مشرقی پاکستان سے متعلق “مثبت خبریں” پیش کرنے پر مجبور تھے اور فتح کی نوید سنا رہے تھے۔ حقائق البتہ مختلف تھے جو قدغنوں سے بھی چھپ نہ پائے اور سقوط ڈھاکہ بالآخر ہو کر ہی رہا۔ ذوالفقار بھٹو نے اپنے دور میں تنقید کرتے صحافیوں اور اخبارات کے ساتھ بھی آمرانہ رویہ برقرار رکھا۔ ان کے دور میں روزنامہ ڈان اور روزنامہ جسارت کے مدیروں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ بھٹو کا تختہ الٹنے کے بعد ضیاالحق نے ملک میں مارشل لا نافذ کیا اور پاکستان میں صحافتی تاریخ کے سیاہ ترین باب کا آغاز ہو گیا۔

پی پی او سے آر پی پی پی او، اور پھر 90 کی دہائی

ضیا نے ایوب خان کے پی پی او میں مزید ترامیم شامل کیں اور اسے ریوائزڈ پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس (آر پی پی او) کا نام دیا۔ اس دور میں اشاعتی اداروں کو ایسی خبریں چھاپنے پر بھی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو ضیا حکومت کی پالیسیوں یا اس کے جہادی بیانئے کے خلاف ہوتی تھیں، بھلے ہی وہ حقائق پر مبنی ہوں۔ ضیا نے صحافت پر قدغنیں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستانی صحافت میں اسلامائزیشن کا آغاز کیا اور اس کی مہربانی کے طفیل اشاعتی ادارے اور زیادہ تر صحافی بائیں بازو اور کٹر مذہبی و قومی نرگسیت پسندی کی جانب مائل ہو گئے۔ 90 کی دہائی میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے صحافتی اداروں پر اپنے اپنے ادوار میں اختلاف کرنے پر ان دیکھی پابندیاں عائد کیں اور ان اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا۔

مشرف کی مجبوری میں دی گئی آزادی اور پھر اس کا سلب کرنا

پرویز مشرف نے جب مارشل لا نافذ کرنے کے بعد عنان اقتدار سنبھالی تو عالمی حالات تبدیل ہو چکے تھے۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کو اپنے بیانئے کو فروغ دینے اور بھارتی نجی ٹی وی چینلوں کے پراپیگینڈے کا جواب دینے کیلئے ایک معتدل اور تھوڑا لبرل مزاج میڈیا درکار تھا۔ چنانچہ 2002 میں پرویز مشرف اور اسٹیبلشمنٹ کے تھنک ٹینکس نے نجی ٹی وی چینلوں اور ایف ایم ریڈیو چینلوں کو لائنسس دینے کے عمل کا اجرا کیا اور پیمرا (پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی) نامی ادارے کی بنیاد رکھی۔ مقتدر قوتوں کا خیال تھا کہ ایک حد تک آزاد اور لبرل میڈیا نہ صرف عالمی دنیا میں پاکستان کا تشخص بہتر کرے گا بلکہ بھارتی میڈیا کو منہ توڑ جواب بھی دے گا۔ لیکن بہت جلد ہی مشرف اور مقتدر قوتوں کو احساس ہو گیا کہ الیکٹرانک میڈیا سماج میں تبدیلی برپا کرنے اور روایتی سٹیٹس کو کو ختم کرنے کے رجحانات کو فروغ دینے کا باعث بن گیا۔ 2007 میں وکلا تحریک کے دوران مشرف نے چند نجی چینلوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کی نشریات بند بھی کیں لیکن وہ آزادی صحافت کا گلہ گھونٹنے میں ناکام رہا اور بالآخر ماضی کے آمروں کی مانند گھر چلا گیا۔ اس اثنا میں سوشل میڈیا کا استعمال بھی بتدریج بڑھنا شروع ہوا اور عوام کو خبروں اور معلومات کا متبادل پلیٹ فارم مل گیا۔

کالم نگار، تجزیہ کار بھرتی کر کر کے تھک گئے تو قدغنیں لگانا شروع کر دیں

ادھر مقتدر قوتوں نے دھیرے دھیرے اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں اپنے تجزیہ کار، کالم نویس اور اینکرز شامل کروائے اور ایک بار پھر حب الوطنی اور قومی مفاد کی ڈھال کا استعمال کرتے ہوئے میڈیا پر قدغنیں عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔ دھرنے کے دنوں میں چند میڈیا ہاؤسز کو چھوڑ کر ملک کے تمام صحافتی اداروں نے تحریک انصاف کا ساتھ دیا اور یہ سلسلہ 2018 کے انتخابات تک جاری رہا۔ اس کے نتیجے میں میڈیا ہاؤسز اور اشاعتی ادارے تقسیم کا شکار ہوئے اور معروضی صحافت کے بجائے طاقت کی بساط پر موجود فریقین کے حمایتی بن گئے۔ صحافتی تنظیمیں پہلے ہی دھڑا بندیوں کا شکار تھیں اس لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر باآسانی قابو پا لیا گیا۔ بہت سے صحافیوں کو ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کی جانب سے ان دیکھی پاندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران ڈیجیٹل میڈیا مضبوط ہوا اور آن لائن جریدوں اور تبصروں کی ویب سائٹوں نے حقائق عوام کے سامنے رکھنے شروع کر دیے۔ اس ڈیجیٹل میڈیا کو قابو کرنے کیلئے سائبر کرائم بل کا اجرا تو کیا گیا لیکن یہ صحافیوں اور لکھاریوں پر قدغنیں عائد کرنے کیلئے ناکافی تھا۔ چنانچہ اب ایک تیر سے سارے شکار کرتے ہوئے پمرا نامی ادارے کی تشکیل کی منظوری دے دی گئی ہے۔

تحریک انصاف حکومت پہلے دن سے صحافت کے درپے ہے

حیران کن طور پر وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دینے سے پہلے اخبارات یا آن لائن اشاعتی اداروں کے ذمہ داران سے نہ تو مشورے کیے اور نہ ہی ان کے ساتھ اس ضمن میں کسی مکالمے کا آغاز کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام صحافتی تنظیموں نے پمرا نامی ادارے کے قیام کی مخالفت کی ہے اور اسے صحافت پر قدغن کے مترادف کہا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پہلے قومی خزانے سے پیسے بچانے کا نعرہ لگا کر میڈیا کی صنعت کو معاشی طور پر استحصال کا نشانہ بنایا اور نتیجتاً سینکڑوں ہزاروں صحافی بیروزگار ہوئے اور اب ذمہ دار صحافت کے نعرے کی آڑ میں پمرا نامی ادارے کی تشکیل کر ڈالی تاکہ ایوب خان اور ضیاالحق کی مانند میڈیا پر مکمل قابو پا کر اختلاف کرتی آوازوں کا گلا گھونٹا جا سکے۔

کیا اپوزیشن میں رہتے ہوئے نواز شریف پر تنقید کرتا میڈیا برا نہ لگتا تھا؟

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 2015 سے 2018 تک جب تحریک انصاف مرکز میں اپوزیشن میں تھی اور اس وقت کی حکومت اور سرکاری افسران پر بنا ثبوت کرپشن کے الزامات لگاتی تھی اور اخبارات اور ٹیلی وژن کے ذریعے اس پراپیگنڈے کو پھیلاتی تھی تو اسے اس وقت صحافتی ذمہ داریوں اور اعلیٰ صحافتی اقداروں کا خیال کیوں نہ آیا۔ اسی عرصے میں خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت موجود رہی لیکن وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے “مہنگے داموں” سرکاری اشتہارات دینے کا سلسلہ بند نہیں کیا بلکہ دل کھول کر ٹی وی چینلوں اور اخبارات کو اشتہارات دیے۔ کیا اس وقت ان اشتہارات پر پیسہ تحریک انصاف کی جیب سے لگتا تھا یا پھر اس وقت “مہنگے داموں” سرکاری اشتہارات دینا اس لئے برا نہ لگتا تھا کہ تنقید کی زد میں اس وقت نواز شریف اور اس کی جماعت تھی؟ بھلا ہو اس دہرے معیار کا، اگر تھوڑے عرصے کیلئے تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے گذشتہ پانچ برسوں کی حکومت کا احتساب کیا جائے تو جہاں اور بہت سے شعبوں میں میٹرو بس پشاور کی مانند بے ضابطگیاں سامنے آئیں گی وہیں ان کے ایک سینیٹر کا نام بھی سامنے آئے گا جو میڈیا کے اشہارات بنانے اور پھر مرضی سے انہیں بانٹتے ہوئے کمیشن لے لے کر کروڑ پتی بن چکا ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل میڈیا پر جب تک فوٹو شاپڈ تصاویر تحریک انصاف کے “ہوائی منصوبوں” کو دکھاتی تھیں تو یہ ٹھیک تھا لیکن اب یہ اچانک ہی غلط ہو گیا ہے؟

یہ آزادی صحافیوں نے خیرات میں حاصل نہیں کی

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں حکمرانوں کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ صرف اپنی شان میں قصیدے پڑھنا اور سننا چاہتے ہیں۔ آمریت منتخب حکمرانوں کے بھی خمیر میں رچ بس گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھوڑی سی تنقید بھی انہیں گراں گزرتی ہے۔ پمرا کا ادارہ وقتی طور پر تو معاشی طور پر کمزور صحافتی شعبے کو دبا لے گا لیکن اگر تحریک انصاف کا یہ قیاس ہے کہ اس کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا اور صحافتی آزادی کا گلا گھونٹ دیا جائے گا تو یہ ناممکن ہے۔ ایک دفعہ لی گئی آزادی نہ تو اتنی آسانی سے واپس دی جاتی ہے اور نہ ہی پاکستان کے صحافتی شعبے نے یہ آزادی خیرات میں حاصل کی ہے۔ تمام تر قدغنوں اور خطرات کے باوجود ہمارے صحافتی شعبے نے دہائیوں پر محیط جدوجہد کر کے آزادی اظہار رائے اور اختلاف کے حق کو زندہ رکھا ہے۔ گو یہ صحافتی آزادی اور اختلاف آمرانہ اقداروں کے اندھیروں کے مقابلے میں محض ایک چھوٹے سے چراغ جیسے ہیں لیکن اگر ایوب خان، ضیاالحق اور مشرف بھی اس چراغ کو نہ بجھا پائے تو پھر بھلا ایک کمزور سی حکومت کہاں سے اتنا دم لائے گی جو کئی صحافیوں کے خون سے لو پاتے ہوئے آزادی صحافت کے اس چراغ کو بجھا پائے؟ جہاں صحافت کی شعبے کی کئی کالی بھیڑیں ہر دور کے حاکم وقت کی شریعت پر اذانیں دیتی آئی ہیں وہیں مٹھی بھر صحافیوں نے ہر دور میں حاکم وقت کی بیعت کرنے کے بجائے صحافت کی لاج رکھتے ہوئے حقائق پر مبنی خبریں اور اختلاف پر مبنی تجزیے بھی پیش کیے ہیں۔

جرأتِ سوال

اس معلومات کے دور میں مختلف ادارے بنا کر میڈیا پر قدغنیں لگانے کا منصوبہ کبھی بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ اگر تحریک انصاف کی حکومت پمرا جیسے ادارے کی آڑ میں قومی مفاد، قومی خزانے کا پیسہ بچانے اور میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ اقداروں کا شور مچا کر انہیں بطور ڈھال استعمال کر کے آزادی صحافت پر قدغنیں عائد کرنا چاہتی ہے تو اسے رابرٹ ایبرٹ کا وہ قول یاد رکھنا چاہیے کہ “ایک آزاد معاشرے میں اگر صحافت کے منفی اثرات پر ہمہ وقت تنقید کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اقتدار میں موجود طبقات سے سوال پوچھنے کی ہمت کی ہے۔”

شیئرکريں
  • 20
    Shares
ٹیگ:
عماد ظفر

مصنّف ابلاغ کے شعبہ سے منسلک ہیں؛ ریڈیو، اخبارات، ٹیلی وژن، اور این جی اوز کے ساتھ وابستہ بھی رہے ہیں۔ میڈیا اور سیاست کے پالیسی ساز تھنک ٹینکس سے بھی وابستہ رہے ہیں اور باقاعدگی سے اردو اور انگریزی ویب سائٹس، جریدوں اور اخبارات کیلئے بلاگز اور کالمز لکھتے ہیں۔

  • 1