Type to search

جمہوریت سیاست فيچرڈ

فوجی عدالتوں کی توسیع: تمام فریقین ایک ہی پیج پر مگر کتاب غلط ہے

پاکستان میں فوجی عدالتوں کا قیام آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد 2014 میں عمل میں لایا گیا۔ ان عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی میں ملوث افراد اور ان کے سہولتکاروں کے خلاف تیز رفتاری سے مقدمے چلا کر ان کو قانون کے مطابق سزائیں دینا تھا۔ سانحہ پشاور کے بعد فوج نے ملک بھر میں کالعدم شدت پسند تنظیموں اور ان کے ٹھکانوں کا صفایا کرنے کیلئے آپریشن ضرب عضب شروع کیا۔ اس دوران فوجی عدالتوں کا قیام اس لئے ضروری سمجھا گیا کیونکہ کریمنل جسٹس سسٹم میں خرابیاں موجود تھیں اور دہشتگرد اس کے باعث قانون کی گرفت سے بچ نکلتے تھے۔

فوجی عدالتوں کے قیام کو اب پانچ برس کا عرصہ بیت چکا ہے اور رواں ماہ ان عدالتوں کو کام کرنے کیلئے توسیع چاہیے جو کہ پارلیمان سے حاصل کی جائے گی۔ کچھ روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے فوجی عدالتوں کی توسیع کے بارے میں قومی اسمبلی میں قانون پاس کروانے کیلئے دو اراکین پر مبنی کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شامل ہیں جن کے ذمے اپوزیشن کو یہ بل پاس کروانے کیلئے قائل کرنا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز فوجی عدالتوں کی توسیع کے بارے میں پیش کیے جانے والے ممکنہ بل کی حمایت کرنے پر آمادہ ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی مقتدر حلقوں کو پہلے ہی اس ضمن میں ہاں کر چکی ہے۔

فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کو لے کر گذشتہ سال سے ہی بحث و مباحث جاری ہیں کیونکہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کریمنل جسٹس سسٹم کی موجودگی میں ان عدالتوں کی توسیع کو جائز نہیں سمجھتے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے حال ہی میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کی ہے اور ایک تازہ پریس کانفرنس میں یہ کہا ہے کہ “کسی بھی جمہوری ملک کیلئے فوجی عدالتیں اور ان کا قیام نیک شگون نہیں ہے۔ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے اور ہر شہری کو اپنے دفاع کا پورا حق دے”۔

جب فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تو پاکستان اس وقت دہشت گردی کے حملوں کی لپیٹ میں تھا اور ملک میں موجود عدالتی نظام دہشت گردوں اور ان کے سہولتکاروں کو کبھی قانونی خامیوں اور کبھی کالعدم تنظیموں سے دھمکیاں ملنے کے باعث سزا نہیں دینے پاتا تھا۔ اکثر و بیشتر وہ جج جو دہشت گردوں کے مقدمات سنتے تھے انہیں تحریک طالبان پاکستان، لشکر جھنگوی اور لشکر طیبہ جیسی کالعدم تنظیموں سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور جج حضرات مقدمے سے جان چھڑا کر کبھی تاریخیں دے دیا کرتے تھے یا پھر رخصت ہر چلے جاتے تھے۔ اس لئے جب فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس وقت حکومت اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مستقبل قریب میں عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات لانے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ پھر فوجی عدالتوں کو تشکیل دینے کی ضرورت نہ محسوس ہو۔

لیکن اس کے برعکس اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بلکہ اعلیٰ عدلیہ جس کے ذمے ماتحت عدالتوں اور قانونی نظام کو بہتر بنانے کی ذمہ داری ہے وہ سیاسی نوعیت کے کیسوں کو سننے میں مصروف رہی اور بیشتر وقت ان انتظامی امور کی دیکھ بھال میں ضائع کر دیا جو کہ حکومت کی ذمہ داری تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی بیشتر آبادی اور سیاسی جماعتوں کے نزدیک فوجی عدالتیں ہی دہشت گردوں اور ان کے سہولتکاروں کو سزائیں دینے کیلئے بہترین متبادل انصاف پر مبنی نظام ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے علمبردار اور سول سوسائٹی اس سے اتفاق نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک فوجی عدالتوں کے قیام سے خارجہ پالیسیوں، ملکی سیاست پر گرفت کے بعد اب فوج کی گرفت انصاف اور قانون کے نظام پر بھی بڑھتی جا رہی ہے جو کہ جمہوریت اور سویلین بالادستی کیلئے نیک شگون نہیں ہے۔

جہاں تک فوجی عدالتوں کی کارکردگی کا تعلق ہے تو ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور نے حال ہی میں ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ان عدالتوں کی کارکردگی کو اجاگر کیا ہے۔ آصف غفور کا کہنا ہے کہ “فوجی عدالتوں نے انتہائی احسن طریقے سے اپنے فرائض انجام دیے ہیں۔ اپنے قیام سے لیکر آج تک ان عدالتوں نے 546 کیسوں کو نمٹایا ہے۔ 310 دہشت گردوں کو سزائے موت سنائی ہے جبکہ 224 مجرموں کو پانچ سال سے عمر قید تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں”۔ زمینی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اور کمزور قانونی نظام کی موجودگی میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کیلئے فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدلیہ سمیت دیگر سویلین ادارے اس قدر کمزور ہیں کہ وہ اپنے ذمے واجب فرائض بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں اور فوج کے ادارے کو ہی معاملات چلانے ہیں تو پھر ہر دم جمہوریت کا راگ کیوں الاپا جاتا ہے؟

کریمینل جسٹس سسٹم میں خرابیاں دور کرنے یا عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کے بجائے فوجی عدالتوں پر انحصار کبھی بھی اس مسئلے کا حل نہیں نکال پائے گا۔ فوجی عدالتوں میں چلنے والے مقدموں کی شفافیت پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہیں گے اور بہت سے افراد کو یہ خدشہ رہے گا کہ ان عدالتوں میں ملزموں کو اپنے دفاع کا حق انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں مل پائے گا۔ حال ہی میں پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے فوجی عدالتوں کے کئی فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 74 افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ان 74 میں سے 50 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائے موت اور بقیہ کو عمر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں لیکن پشاور ہائی کورٹ نے ان سزاؤں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مکزمان کو شک کا فائدہ دیکر بری کر دیا۔

پشاور ہائی کورٹ کا یہ حالیہ فیصلہ بھی فوجی عدالتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے ان عدالتوں کی توسیع کیلئے قومی اسمبلی میں ووٹ دینے پر آمادگی سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ کیا یہ دونوں جماعتیں اصل جمہوری نظام لاگو بھی کرنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ یا پھر ان کے نزدیک طاقت کا حصول ہی واحد مقصد ہے جس کی خاطر بڑے سے بڑا اصول بھی قربان کیا جا سکتا ہے؟ پاکستان مسلم لیگ نواز نے تو عام انتخابات لڑے ہی “ووٹ کو عزت دو” کے بیانئے کے دم پر تھے اور یہ جماعت خود کو جمہوریت کی علمبردار اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت کہلواتی ہے۔ اس کا پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ساتھ مل کر فوجی عدالتوں کی توسیع کے حق میں ووٹ دینے کا ارادہ خود اس جماعت کے بیانئے کی نفی کرتا ہے۔

بدقسمتی سے جب بھی ملک میں بات جمہوری بالادستی یا بنیادی حقوق کی فراہمی پر آتی ہے تو تمام سیاسی جماعتیں مقتدر قوتوں سے ہاتھ ملا کر سمجھوتہ کر لیتی ہیں اور بدلے میں وقتی ریلیف یا فوائد حاصل کر لیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت آج تک کمزور ہے اور بنیادی انسانی و شہری حقوق باآسانی کبھی حب الوطنی، نازک حالات اور کبھی مذہب و اقداروں کی پاسداری کے نام پر سلب کر لیے جاتے ہیں۔ سیاسی اور دفاعی اشرافیہ شاید دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے کیونکہ دہشت گردی شدت پسندی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اور شدت پسندی معاشرے میں مذہب، دفاعی اور قوم پرستی بیانیوں کے دم پر پھیلتی ہے۔

چونکہ طاقت کی بساط پر ہر فریق اپنے اپنے حصے کی چالیں چل کر زیادہ سے زیادہ اختیارات اور طاقت کے حصول میں کوشاں ہے اس لئے شدت پسندی کے تدارک اور کریمنل جسٹس سسٹم یا عدالتی اصلاحات لانے کیلئے کسی بھی فریق کے پاس وقت میسر نہیں ہے۔ جب تک حکمران اشرافیہ ان مسائل سے نبرد آزما نہیں ہوگی تب تک فوجی عدالتوں یا دیگر شارٹ ٹرم اقدامات کی مدد سے شدت پسندی کے ناسور کو سماج سے نکالا نہیں جا سکے گا۔

دوسری جانب اب پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نواز کم سے کم یہ گلہ نہیں کر سکتے کہ ملک میں جمہوری نظام کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا کیونکہ جب بھی جمہوری بالادستی کی آزمائش کا وقت آتا ہے تو یہ جماعتیں اصولوں پر کھڑا ہونے کے بجائے اس وقت کے مسئلے کو بارگیننگ چپ کے طور پر استعمال کر کے اپنے اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے کچھ لو کچھ دو کے اصول پر گامزن ہو کر سودے بازیاں کرلیتی ہیں۔ شاید شدت پسندی کا وہ مسئلہ جس نے نسل در نسل اذہان کو مذہب، دفاع اور جہاد کے نام پر تباہ کیا ہے اسے حل کرنے میں سیاسی اور دفاعی اشرافیہ کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ فوجی عدالتوں کی توسیع کے معاملے میں تمام فریق ایک پیج پر تو ہیں لیکن یہ صفحہ غلط کتاب کا ہے جو ہم گذشتہ اکہتر برسوں سے بار بار پڑھ کر اس انجام تک پہنچے ہیں۔ فوجی عدالتیں کبھی بھی عدالتی نظام کا متبادل نہیں ہوا کرتیں۔

شیئرکريں
  • 26
    Shares
ٹیگ:
عماد ظفر

مصنّف ابلاغ کے شعبہ سے منسلک ہیں؛ ریڈیو، اخبارات، ٹیلی وژن، اور این جی اوز کے ساتھ وابستہ بھی رہے ہیں۔ میڈیا اور سیاست کے پالیسی ساز تھنک ٹینکس سے بھی وابستہ رہے ہیں اور باقاعدگی سے اردو اور انگریزی ویب سائٹس، جریدوں اور اخبارات کیلئے بلاگز اور کالمز لکھتے ہیں۔

  • 1