Type to search

جمہوریت عوام کی آواز

مجھے ڈاکٹروں سے نفرت ہے

“میڈم آمنہ آپ کی بات اپنی جگہ پہ ٹھیک ہے لیکن۔۔۔۔۔۔”

“سائرہ  میری بات سنو۔ آپ اتنی ضد کیوں کر رہی ہو؟ آپ کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ آپ کے بھائی نے امتحان میں کامیابی حاصل کی اور اب آپ اس کو ڈاکٹر نہیں بنانا چاہتیں۔ اس کو ڈاکٹر ہی بننا چاہیے۔”

میڈم آمنہ سائرہ کو سمجھانے میں بری طرح ناکام ہو چکی تھیں۔ میڈم چاہتی تھیں کہ ان کا اتنا لائق شاگرد ڈاکٹر ہی بن جائے تو اچھا ہوگا لیکن شاگرد کی بڑی بہن بالکل انکاری تھی۔

سائرہ  کہنے لگی “میڈم آپ کی بات اپنی جگہ ٹھیک ہے لیکن میں اپنے بھائی کو ڈاکٹر نہیں بنا سکتی۔”

“لیکن کیوں؟” میڈم آمنہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔

“میڈم میں آپ کو بتاتی ہوں۔ آپ کو پتہ ہے ڈاکٹروں کی زندگی کیا ہے؟ پہلے میٹرک، ایف ایس سی اور پھر پانچ قیمتی سال پڑھائی میں گزار دیتے ہیں اور باقی زندگی ہسپتالوں میں گزر جاتی ہے۔ میں آپ کو ایک کہانی سناتی ہوں۔ ایک لڑکی ہے، ان کے ابو ڈاکٹر تھے۔ دن رات لوگوں کی مدد کرنا ان کا کام تھا۔ کبھی ایک مریض کو اپنے جیب سے پیسے دینا، کبھی دوسرے کے لئے اپنے ساتھی ڈاکٹروں سے چندہ اکٹھا کرنا۔ صبح سویرے ہسپتال جانا اور رات دیر سے آنا۔ اکثر اتوار کے دن جب باقی لوگ آرام کرتے تھے، ان کی دیوٹی ہوتی تھی۔ دنیا کے تمام لوگ رات کو آرام کرتے ہیں اور ڈاکٹر لوگ پھر بھی ہسپتال میں موجود ہوتے ہیں۔ ان ڈاکٹر صاحب کے پاس حتیٰ کہ چھٹی والے دن بھی کوئی آتا تو یہ ضرور ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتے۔ میڈم ان ڈاکٹر صاحب کے کپڑے اکثر گندے ہوتے تھے، کبھی مریضوں کے خون سے، تو کبھی مریضوں کی قے سے اور کبھی کبھار مریضوں کے گھر والوں نے غصہ میں آ کر ان کا گریبان چاک کر دیا ہوتا کہ ڈاکٹر نے دیر کی لیکن مریض کے گھر والوں نے جو گھر پہ دیر کی یا راستہ میں دیر ہوئی اس کو کوئی نہیں دیکھتا تھا۔ ساتھ میں ڈیوٹی پر موجود خواتین ڈاکٹروں اور نرسوں کی عزتیں پامال کرتے، گالیاں دیتے، برا بھلا کہتے۔ لوگ یہ تو نہیں سوچتے تھے کہ یہ بھی کسی کی ماں، بہن بیٹی ہوگی۔ یہ جو رات بھر آپ کی خدمت کے لئے کھڑی تھی ہو سکتا ہے ان کے اپنے والدین بھی گھر پہ بیمار ہوں۔ والدین کو بھی ان کی ضرورت ہوگی۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹروں کے دل اداس نہیں ہوتے۔ کیا اداسی کے لئے سب کے سامنے آنسو بہانا ضروری ہے؟ میڈم! لیکن اس سب کا صلہ کیا ملا؟ ایک دن ہوا یوں کہ ایک موٹر سائیکل سوار کا تیز رفتاری کی وجہ سے حادثہ ہو گیا۔ اس کو ہسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا، ڈاکٹروں نے بہت کوشش کی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا تھا اور بچ نہ سکا۔ تو اس کے گھر والوں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں پہ حملہ کیا۔ ان ڈاکٹر صاحب کو سر پر گہری چوٹ آئی۔ کچھ دن موت سے لڑتے رہے اور پھر یہ بازی ہار گئے۔ ساری عمر زندگیوں کا سہارا بننے والے مسیحا کو مار ڈالا۔”

“میڈم پتہ ہے وہ ڈاکٹر کون تھا؟  وہ میرے ابو تھے۔ مجھے کیا صلہ ملا؟ ابو کی لاش۔”

میڈم آمنہ سر جھکائے اپنے آنسو ضبط کرنے کی ناکام کوشش کرتی رہیں۔ سائرہ بولتی گئی، “میڈم ڈاکٹروں کو دوسروں کی فکر ہوتی ہے اپنوں کی نہیں۔ اس لئے مجھے نفرت ہے ڈاکٹروں سے”۔

پھر سائرہ نے علی کو اٹھنے کا اشارہ کیا اور کہا “علی تم نے ڈاکٹر نہیں بننا، میں ابو کے بعد آپ کو کھونا نہیں چاہتی۔”

شیئرکريں
ٹیگ:
ڈاکٹر محمّد عثمان آفریدی

مصنف آزاد جموں و کشمیر میڈیکل کالج مظفرآباد سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں

  • 1