Type to search

تجزیہ جمہوریت سیاست مذہب

تسلیمہ نسرین کی ٹوئیٹ، اور لبرلوں کے خارجی

ٹوئٹر کی دنیا بھی عجیب ہے۔ وہ تمام لوگ جو ہمیں افسانوں قصوں کا حصہ لگتے تھے سوشل میڈیا کی وجہ سے ہمارے قریب آ چکے ہیں، جیسے گاڑی میں سفر کرتے ہوئے شیشے تو بند ہوتے ہیں لیکن منظر سب دکھائی دیتا ہے۔ ہاتھ بڑھا کر چھوا نہیں جا سکتا لیکن دور سے دیکھا ضرور جا سکتا ہے۔ سب مناظر آپ کو اپنی حقیقت کا حصہ لگنے لگتے ہیں۔ کچھ یہی حال ہمارے ارد گرد ان مشاہیر کا بھی ہے۔ رسائی بہت آسان بھی ہے اور کچھ کچھ خیالی بھی۔

ماہرہ خان ہوں یا شاہ رخ خان، ٹوئٹر پر سبھی موجود ہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور گاہے گاہے ٹوئیٹ کر کے اپنے مداحوں سے جڑے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ مفکرین، سیاستدان اور لکھاری بھی اس کا حصہ ہیں۔ ان کی ٹوئیٹس نہ صرف ان سے ہماری ملاقات کرواتی ہیں بلکہ ہمیں انہیں جاننے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

‘رمضان مبارک۔۔۔ میں لنچ کر رہی ہوں’

تسلیمہ نسرین سے کون ناواقف ہے؟ اپنے افکار کی وجہ سے کافر کہلائیں اور ملک بدر ہوئیں۔ بیچ کی کہانی کی طرف ہم جانا مناسب اس لئے نہیں سمجھتے کہ ہمیں خود بھی زیادہ نہیں پتہ۔ باقی سب کی طرح تسلیمہ بھی ٹوئٹر پر ہیں۔ یہاں کون کسی کو لگام دے سکتا ہے، اس لئے کھل کر بولتی ہیں۔ ابھی پرسوں ہی ہماری نظر ان کی ایک ٹوئیٹ پر پڑی جس نے ہمیں چونکا دیا۔ اس میں ایک تصویر تھی جس میں تسلیمہ لنچ کر رہی تھیں اور کیپشن تھا ‘رمضان مبارک۔۔۔ میں لنچ کر رہی ہوں۔’ یعنی علی الاعلان رمضان پر چوٹ کی گئی۔

احترامِ رمضان بل سے اختلاف ہمیں بھی ہے

دیکھیے زمانے کی کی گئی تخصیص کے مطابق ہمارا تعلق لبرل ٹولے سے ہے۔ ہم اور ہمارے رفیق دن رات گالیاں کھاتے ہیں اور طعنے سہتے ہیں۔ کسی بھی قسم کے جبر کے خلاف ہیں۔ زبردستی کی عزت کروانا ہمارے نزدیک عقل کی بات نہیں۔ رمضان میں کھانے پر تین مہینے کی جیل کی منطق بھی ہمیں سمجھ نہیں آتی۔ مذہب ہر انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ لیکن تسلیمہ کی اس بات کے ہم صریحا مخالف ہیں۔

دن رات ہندو انتہا پسندی کے واقعات پر پچھلے دنوں میں یہ کیوں کچھ نہ بولیں؟

لبرل ہونے کا مطلب سب کی سوچ کو تسلیم کرنا ہے۔ رواداری کی راہ پر چلنا ہے۔ تو کسی بھی مذہب کے شعائر کا مذاق اڑانا کس طرح جائز ہے؟ مانا کہ آپ روزہ نہیں رکھنا چاہتیں۔ اسلام سے لاکھ اختلافات ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا حق آپ کو کس قاعدے نے دیا؟ ان کی باقی ٹوئیٹس دیکھیں تو ان میں بھی کم و بیش ایسی ہی مسلم مخالف باتیں نظر آئیں۔ کہیں ایک ہندو باپ کی تعریف میں ربط اللسان نظر آئیں جس کا بیٹا مسلمانوں نے مار دیا تھا تو کہیں عید الاضحیٰ کے خلاف بولنے والے ایک آسامی گلوکار کی حمایت کرتی نظر آئیں۔ حیرت ہے کہ بھارت میں رہتے ہوئے تسلیمہ کو ایک اقلیت ہی ظالم نظر آئی۔ دن رات ہندو انتہا پسندی کے واقعات پر پچھلے دنوں میں یہ کیوں کچھ نہ بولیں؟

اپنی اپنی راہ کیوں نہیں لی جا سکتی؟

کیا مسلمانوں کو اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے کا حق حاصل نہیں؟ کیا لبرل ازم صرف ایک خاص مذہب ہر ہی تنقید کا نام ہے وہ بھی تب جب وہ مذہب اس ملک میں ویسے ہی پسا ہوا ہو؟ کیا رمضان کی کوئی ثقافتی حیثیت بھی نہیں؟ جب بھارت میں تمام ثقافتیں اپنے ہر قسم کے رسوم و رواج منا سکتی ہیں تو کسی ایک مذہب کو اپنے عقائد پر عمل کرنے کا حق کیوں نہیں؟ اپنی اپنی راہ کیوں نہیں لی جا سکتی؟

لیجیے، ہو گئے ہم بھی دائرے سے خارج

یہ تصویر ابنِ انشاء کی ‘اردو کی آخری کتاب‘ سے لی گئی ہے۔ ابنِ انشاء نے تو چوٹ ملاؤں کی جانب سے تکفیر کے فتووں پر کی تھی، آج کل لبرل ازم سے بھی لوگ یونہی خارج کیے جا رہے ہیں۔ (ادارہ)

ہم جانتے ہیں کہ یہ بات کر کے ہم دائرہ لبرل ازم سے خارج ہو جائیں گے۔ اظہار رائے کی آزادی پر حملے کے مرتکب ٹھہرائے جائیں گے۔ لیکن جیسا کہ ہمیں گالیاں سننے کی بھی عادت ہے اور طعنے سہنے کی بھی، لہٰذا حق بات بولنے سے بالکل گریز نہ کریں گے بھلا ردعمل جو بھی ہو۔

تسلیمہ نسرین سے بھی یہی التماس ہے کہ اس طرح کی تضحیک سے پرہیز کریں۔ رواداری کی روش کو اپنائیں۔ اور اگلے رمضان میں جلی ہوئی روٹی کے ساتھ تصویر بالکل نہ کھنچوائیں۔

شیئرکريں
ٹیگ: