Type to search

بین الاقوامی خبریں فيچرڈ معیشت

پاکستان کی طرف سے تجارت کی معطلی سے بھارت کو کیا نقصان ہوگا؟

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے  کے ردعمل میں بھارت سے درآمدات اور برآمدات پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہےتاہم اس پابندی سے افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت متاثر نہیں ہوگی۔

وزارت تجارت نے وفاقی کابینہ کے فیصلے کے مطابق بھارت سے دوطرفہ تجارت کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے دوطرفہ تجارت غیر معینہ مدت کے لیے معطل کی گئی ہے جب کہ بھارت اور اسرائیل سے اشیاء کی درآمدت پر مکمل پابندی ہوگی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت معطل کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں اور کشمیر کو آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر رام ناتھ کووند نے منسوخی کے بل پر دستخط کردیے ہیں۔

بھارت کی حکومت نے کشمیر میں 4 اگست کو کرفیو نافذ کردیا تھا اور کشمیری قیادت کو نظر بند کر دیا تھا۔

تاہم سوال یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تجارت کا حـجم کیا اس قدر زیادہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے تجارت کی معطلی سے انڈیا کو زیادہ پریشانی ہو سکتی ہے؟ اور اگر نہیں تو نقصان کس کا ہو گا؟

بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان میں سرکاری حکام اور کاروباری شخصیات کا، جو پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تجارت کے بارے میں جانتے ہیں، مؤقف ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت ان کے مجموعی تجارتی حجم کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔

آئی ٹی سی کے اعداد و شمار کے مطابق 2018 میں پاکستان سے انڈیا کو برآمدات کی کل مالیت 383 ملین امریکی ڈالر سے زیادہ رہی لیکن یہ پاکستان کی برآمدات کا محض دو فیصد ہے۔

جبکہ پاکستان نے اسی عرصے میں انڈیا سے جو اشیا درآمد کیں ان کی مالیت ایک عشاریہ نو ارب امریکی ڈالر تھی جو پاکستان کی درآمدات کا محض 3 فیصد تھا۔

باقی دنیا کی طرح انڈیا کے ساتھ تجارت میں بھی پاکستان خسارے میں ہے یعنی تجارتی توازن انڈیا کے حق میں ہے۔

تاہم پاکستان میں کاروباری ماہرین اور صعنت و تجارت کے شعبوں سے منسلک حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جن اجناس کی تجارت ہوتی ہے ان کی عدم دستیابی کی وجہ سے دونوں اطراف میں چند صنعتیں اور عام صارفین نقصان اٹھا سکتے ہیں۔

بھارت سے تجارتی تعلقات ختم کرنے سے ٹیکسٹائل کی مصنوعات،مشینری،کاٹن،سبزیاں،پھل اور سویابین جیسی اشیاء کی تجارت متاثر ہو گی۔

چیئرمین پاک انڈیا بزنس کونسل نور محمد قصوری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت جاری رہے تو وہ توقع کر رہے تھے کہ آئندہ سالوں میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والی تجارت 10 سے 20 ارب امریکی ڈالر کی طرف جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا توانائی، صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر جیسے شعبہ جات میں پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ دوسری طرف پاکستان اگر اقتصادی زونز اور راہداری تجارت کی سہولت دے تو انڈیا وسطی ایشیائی ممالک تک ہونے والی اپنی تجارت کو بڑھا سکتا ہے۔

نور محمد قصوری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تجارت کی معطلی علامتی اور سیاسی نوعیت کی ہے۔ اس کا موجودہ حجم اس قدر کم ہے کہ آئندہ تین سے چار ماہ تک معطلی سے دونوں ممالک پر اس کا زیادہ برا اثر نہیں پڑے گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ چند ایسے اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جن کے ذریعے آنے والے وقت میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا۔

 

شیئرکريں
  • 3
    Shares
ٹیگ:

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *