Type to search

تجزیہ سیاست فيچرڈ

نواز شریف اور مریم کی برطانیہ سے واپسی

سارا معاملہ اس دن خراب ہوا جب سب کی پیشنگوئی کے خلافِ توقع نواز شریف اور ان کی دختر مریم نواز سزا یافتہ ہونے کے باوجود ملک واپس آ گئے۔  شیخ رشید اور ان جیسے کئی بادشاہ کے درباری چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ جیسے میاں صاحب پہلے بھاگے تھے اس مرتبہ بھی بھاگے ہی رہے گیں۔

سوچا تو کچھ یوں ہی تھا کہ  میدان صاف ہو جائے گا، بس ایک صابر شاکر ہی کافی ہو گا پریزنٹیشن کے لئے۔ نہ ججوں پہ پریشر ڈالنے کا جھنجٹ ، نہ میڈیا کو سینسر کرنے کے مسئلے۔ بس عوام کو صرف اتنا کہنا تھا کہ دیکھا آپ لوگوں نے ! ہم کہتے تھے نہ کہ یہ چور ہیں. وہ دن اور آج کا دن، ایک بھونچال سا ہے۔

اس دن سے خان صاحب اور شیخ صاحب شدید ذہنی تناْو کا شکار ہیں۔ جس وقت کا ان کو شدت سے انتظار تھا یعنی کہ طاقت کے مزے لینے کا، میاں صاحب کی واپسی نے سارا مزا خراب کر دیا۔  اسی مزے کو برقرار رکھنے کے لئے ہی تو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف اور ان کے پورے خاندان کو ملک بدر کر دیا تھا۔ کہیں یہ مزا خراب نہ ہو جائے اسی لئے جنرل مشرف نے ہر ممکن کوشش کی کہ کہیں بے نظیربھٹو پاکستان واپس نہ آجایئں۔  ذولفقار علی بھٹو نے ضیاالحق کو کھا تو نہ جانا تھا لیکن پھر بھی ان کو پھانسی لگوائی کیونکہ بھٹو کی زندگی ان کو طاقت کا مزا نہیں لینے دے رہی تھی۔اوریہ بھی کہ کہیں دوبارہ سے اس شخص میں جان نہ آجائے جس سے بندے  سے سب  کچھ چھِن گیا  ہو۔ اس شخص سے واقعی میں ڈرنا بھی چاہیئے جس کے پاس کھونے کو کچھ نہ رہ گیا ہو۔

اصل میں تو نواز شریف اور مریم نواز کو مقدمے کے دوران باہر جانے کی اجازت دی ہی اس لئے گئی تھی کہ وہ واپس نہ آئیں۔ جیسے ہی وہ باہر چلے گئے یہاں شور مچ گیا کہ اب یہ واپس نہیں آئیں گے۔

کئی لوگوں کی یہ رائے ہے کہ نواز شریف واپس اس لئے آئے کہ انہوں نے  ملک سے لوٹی ہوئی دولت بچانی تھی اور دوسرا یہ کہ اپنی برسوں کی سیاست بچانی تھی۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن کُچھ حقائق اس اندازے سے بر عکس سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔  

اگر آپ نواز شریف ہوتے تو کیا آپ واپس آتے؟ اس ملک کی عدالت میں پیش ہوتے جہاں کے چیف جسٹس کی یہ رائے ہو کہ ہر کامیاب ہونے والا شخص دو نمبر ہوتا ہے؟ کیا آپ اس ملک میں واپس آتے جہاں آپ کے کیس کا فیصلہ مقدمہ شروع ہونے سے پہلے ہی ٹی وی پر ہو چکا ہوتا؟  اس تمہید سے مقصد نواز شریف کو انتہائی بہادر اور بلندوبالا لیڈر پیش کرنا نہیں اور  نا ہی اس کہ بر عکس بلکہ اس حقیقت سے پردہ اٹھانا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو برطانیہ میں اپنی باقی کی زندگی گزار سکتے تھے- لیکن بضاہر لگتا ایسے ہے کہ پہلی مرتبہ انہوں نے اپنا انجام توکّل اور قدرت پہ چھوڑ دیا اور پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ قدرت کا آخری فیصلہ کیا ہو گا یہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔

آپ کو حکومت سے منسلک وُکلا دوست شاید یہ رائے دیں کہ میاں صاحب اگر واپس نہ آتے تب بھی اگر پاکستان چاہتا تو اِنٹرپول یا خارجہ تعلقات کے ذریئعے  ان کو گرفتار کروا کر   منگوا لیتا۔ یہی دعوی انہوں نے اسحاق ڈار کے بارے میں بھی کیا تھا مگر ایسا دعویٰ تک کرنے پہ پاکستان کے وزیرِخارجہ کو برطانئیہ میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی بگ باس کے پاس کوئی پلین بی(plan B) نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اب انہیں یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اس کہانی کو ختم کیسے کیا جائے۔   ایک ہی طریقہ عموماً کام کرتا ہے، تشدّد! یہی وجہ ہے کہ پہلے نیب ملزم کو گرفتار کرتی ہے اور پھرآیا تشدّد سے یا تشدّد کے خوف کے ذرئیعے اس کو مجبور کرتی ہے کہ جو الزام اس پہ لگہ ہے وہ قبول کر لے ورنہ نتائج کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔  یہی طریقہ پھر گواہوں پہ آزمایا جاتا ہے کہ جھوٹی گواہی دے دو ورنہ!  ایسے موقع پہ سب اہلکار اپنے آپ کو یہ کہہ کے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ ہمارا کیا ہے ہمیں تو آرڈر ملا ہے۔ اگر آپ تشدّد صرف مار پیٹ کو سمجھتے ہیں تو کبھی تجربے کے طور پہ گرمی کے موسم میں صرف چند مِنٹ ایک مچھر کے ساتھ گزاریں۔

وزیراعظم کا بارہاہ یہ کہنا کہ NRO نہیں دوں گا اس بات کو ظاہرکرتا ہے کہ اصل میں وہ چاہتے یہی ہیں کہ ان سے مِنّت زاری کر کے NRO مانگا جائے تا کہ ایک تو ان کایہ بیانئیہ کہ ان کے علاوہ اس ملک میں ہر کوئی چور ہے اس پر ہمیشہ کے لئے مہر لگ جائے۔ اور دوسرا یہ کہ  آئے روز جو سلیکٹڈ کا تعنہ سن کے ان کا دن خراب ہو جاتا ہے اور  سارا دن کڑھنے کے بعد ان کی رات بھی اچھی نہیں گزرتی، اس سلسلے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا جائے۔ 

اب نواز شریف کے جیل سل سے وہ اے سی نکلوا بھی دیں تو سردیوں میں اس کو کیسے تکلیف پہنچائیں گے؟ جیل مری یا نتھیاگلی میں  واقع تو  ہے نہیں کہ خان صاحب ہیٹر نکالنے کی دھمکی دیں۔پھر کیا کریں گے؟

حقیقت یہ ہے کہ جیل اپنے آپ میں ایک دنیا ہے۔وہاں رہنے والے لوگوں کی زندگی باہر رہنے والے لوگوں سے آسائشوں کے لحاظ سے اتنی مختلف نہیں ہوتی۔مطلب یہ کہ جیسے باہر کی دنیا میں آپ پیسے سے اپنے لئے سہولت خریدتے ہیں وہی اصول جیل کا ہے۔آپ کو مرغّن کھانوں سے لے کر سگریٹ تک، اس سے بلا امتیاز کہ آپ کس جرم میں اندر ہیں، ملے گا۔ اس لئے یہ کہنا کہ جیل میں وی آئی پی پروٹوکول صرف سیاستدانوں کو ملتا ہے جھوٹ سے کم نہ ہو گا۔ایسے ہی تو مشہور نہیں ہوا کہ پیسہ بولتا ہے۔یہ الگ بات ہے کے آپ ایک 67 سال کا انسان جو دل کے عارضہ میں مبتلا ہے اس پر ہر وقت نظر رکھیں اور اس کے پیچھےہی پڑ جائیں۔  وہ کس طرف کروٹ لے کے سوتا ہے یہ بات بھی باہر میڈیا میں شاملِ گفتگو ہو۔

انسان طاقت کے نشے میں بلکل اندھا ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ جنرل پرویز مشرف ہو گئے تھے۔کچھ عرصہ قبل میری نظر سے ایک ویڈیو گزری جس میں وہ رو رو کہ کہہ رہے ہیں کہ میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں بلکہ دل کے عارضہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے پاکستان نہیں آ پا رہا۔ میری ذاتی رائے میں جنرل پرویزمشرف کی موت کا انتظار کیا جا رہا  ہے کیونکہ یہ آخری تعنہ  بہت سارے کاموں میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔اگر خدا نے کسی حکمران کو صحیح موقع دیا تھا اس ملک کو ٹھیک کرنے کا اور ساتھ ہی اہلیت بھی دی تھی تو وہ شخص جنرل مشرف ہیں۔لیکن چونکہ وہ صرف اور صرف طاقت کے مزے کے لئے آئے تھے انہوں نے کچھ نہ کیا اور نہ ہی قدرت نے ان کو اس نیک کام کو کرنے کی توفیق دی۔

جب سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کی عدالت نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گلانی کو فارغ کر دیا تو اِسی طرح میاں صاحب نے بھی یوسف رضا گلانی کو مخاطب کرتے ہوئے تضحیک آمیز لہجے میں جلسوں میں کہا تھا کہ پہلے گھر جاؤ بعد میں تاویلیں دینا کہ تمہیں ٹھیک نکالا گیا ہے یا غلط۔۔

انسان یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایک دن اس نے مرنا ہے اپنے جاہ وجلال سے باز نہیں آتا۔وہ باز اس لئے نہیں آتا کہ ذہنی طور پہ انسان موت کو کہیں دور دھکاّ دے دیتا ہے کہ ابھی تو مرنے میں بڑا وقت ہے۔ لہاضہ تھوڑی سی اور دو نمبری، تھوڑی سی اور دھوکہ دہی، تھوڑا سا اور غصّہ۔انسان اپنے آپ کو قائل کر لیتا ہے کہ وہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گا۔آپ نے اپنی زندگی میں کتنے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو بسترِمرگ سے پہلے ٹھیک ہو گئے؟

اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ جیسے پولیس والے ریمانڈ کے دوران مختلف حربوں سے ملزم پر تشدّد کرتے ہیں اسی طرح خان صاحب بھی کبھی اے سی نکلوانے کی بات کرتے ہیں کبھی ٹی وی کی۔کبھی گھر سے آئے ہوئے کھانے پہ پابندی۔

شفقت محمود نے پچھلے دنوں ایک شو میں اپوزیشن والوں سے کہا کہ آپ چاہے جتنا بھی شور مچا لیں ہم کم از کم دس سال تک بیٹھے ہیں۔ایسے میں میرا ان سے معصومانہ سا سوال ہے۔”دس سال کے بعد کیا کریں گے؟” بال تو ابھی سے سفید ہیں آپ کے!

تحریر: بیرسٹر اویس بابر ازراہ تفنن

 

 

 

 

شیئرکريں
  • 93
    Shares
ٹیگ:

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *