Type to search

فيچرڈ فیچر

لداخ پر چین کا اعتراض کیا ہے؟

بھارت نے 5 اگست کو راجیہ سبھا میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا بل پیش کرنے سے قبل ہی صدارتی حکم نامے کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو وفاق کے زیرِ انتظام دو حصوں یعنی (UNION TERRITORIES) میں تقسیم کردیا تھا جس کے تحت پہلا حصہ لداخ جبکہ دوسرا جموں اور کشمیر پر مشتمل ہوگا۔

راجیہ سبھا میں بل کے حق میں 125 جبکہ مخالفت میں 61 ووٹ آئے تھے۔ بھارت نے اب یہ دونوں بل لوک سبھا سے بھی بھاری اکثریت کے ساتھ منظور کرالیے ہیں۔

وادی میں احتجاج کو روکنے کے لیے ٹی وی چینلز، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ سروس معطل ہے جس کے باعث کئی اخبارات بھی نہیں چھپ سکے ہیں۔

بھارتی اقدام کی وجہ سے دنیا بھر میں انکی مذمت کی جا رہی ہے۔

انڈین حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 ختم کرنے اور لداخ کو مرکز کے زیر انتظام خطہ قرار دینے پر چین نے بھی اعتراض اٹھایا ہے جس کو انڈیا نے اپنا اندرونی معاملہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سشما سوراج کی آخری ٹویٹ کیا تھی؟

چین اور انڈیا کا لداخ میں سرحدی تنازع بہت پرانا ہے اور اس بارے میں دونوں حکومتوں کے درمیان اسے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔

لداخ پر چین کا اعتراض 

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چوینگ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پرکشیدگی اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے متعلق سوالات پر تحریری جواب میں کہا کہ چین کو کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ‘شدید تشویش’ ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بھارت کی جانب سے لداخ کو مرکز کا حصہ بنانے کا فیصلہ ‘ناقابل قبول’ قرار دیا۔

ترجمان نے کہا کہ کسی بھی فریق کو یکطرفہ طور پر موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ترجمان کے مطابق کشمیر پر چین کا مؤقف واضح ہے، یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک تاریخی مسئلہ ہے اور اس پر عالمی برادری کا بھی اتفاق ہے۔

ترجمان چینی وزرات خارجہ کا لداخ کے حوالے بھارتی اقدام پر کہنا ہے کہ چین نے  سرحدی علاقے میں بھارتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے اور اس بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔

انڈیا نے چین کے اعتراض کو یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ یہ انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔ انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا ‘انڈیا دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا اور وہ دوسرے ملکوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ انڈیا کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیں گے۔

بی بی سی اردو کے مطابق انڈیا اور چین کے درمیان 3488 کلومیٹرلمبی سرحد تین خطوں میں منقسم ہے۔مشرقی سیکٹر ، وسطی سیکٹر اور مغربی سیکٹر۔ مغربی سیکٹر میں جہاں لداخ واقع ہے یہ تنازع جانسن لائن پر ہے جو انگریز دور میں سنہ 1860 میں وضع کی گئی تھی۔ انڈیا اس لائن کو تسلیم کرتا ہے لیکن چین اسے سرحد نہیں تسلیم کرتا اور وہ لداخ کے موجودہ انڈین خطے کے کئی علاقوں کا دعویدار ہے۔

پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 کی قرارداد پر لوک سبھا میں جواب دیتے ہوئے انڈیا کے وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر میں پاکستان کے زیر انتظام کمشیر اور اکسائی چن بھی شامل ہیں۔ ‘ میں جب جموں و کشمیر کا ذکر کرتاہوں تو اس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور اکسائی چن کا خطہ بھی شامل ہے۔ اکسائی چن سمیت لداخ اب مرکز کے زیر انتظام علاقہ ہوگا۔

اکسائی چن کا علاقہ چین کے پاس ہے۔ حالیہ برسوں میں چین کے فوجی کنٹرول لائن عبور کر کے کئی بارانڈیا کے زیر انتظام علاقے میں آئے ہیں۔ کئی مرتبہ چین کے ہیلی کاپٹر بھی انڈین فضائی حدود میں پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازع پر ایک درجن سے زائد بار مذاکرات ہو چکے ہیں لیکن مشرقی اور مغربی سیکٹر میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

اس تنازع کا اب تک ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کنٹرول لائن مکمل طور پر پرامن ہے اور دونوں فوجوں کے درمیان کئی عشروں سے کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا ہے۔

بعض چینی دانشوروں کا خیال ہے کہ کشمیر کو دو حِصوں میں تقسیم کرنے کا انڈیا کا مقصد کشمیر اور چین کے ساتھ پیچیدہ سرحدی تنازعے کوایک دوسرے سے علیحدہ کرنا اور کشمیر کے مسئلے کو یکطرفہ طور پر حل کرنا ہے۔

 

 

شیئرکريں
  • 5
    Shares
ٹیگ:

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *