Type to search

ثقافت فيچرڈ فیچر

بلوچستان میں موجود دلکش جزیرے “استولا” کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

تحریر: (ابن اظہر) پہلے دور کے سات  سمندر ہوں یا سات زمینوں اور آسمانوں کا تذکرہ، سات  عجائب کا ذکر ہو یا دھنک کے سات رنگوں کا جادو، جغرافیائی لحاظ سے سات کا ہندسہ نامعلوم وجوہات کی وجہ سے انسانی تاریخ میں خاصا مقبول رہا  ہے۔

 پہاڑوں کے ضمن میں بھی سات کے ہندسے کا کردار بہت اہم ہے- سات براعظم کی سات  بلند  ترین چوٹیاں سر کرنے کا چیلنج “سیون  سمٹ ” حالیہ دور میں بہت مقبول ہوا ہے۔

تاریخی اعتبار سے سات پہاڑوں کا ذکر ان شہروں کے ضمن میں ملتا ہے جو کے سات پہاڑوں کی بدولت معروف ہوئے یا وجود میں آئے۔ اس حوالے سے روم کا شہر سرفہرست  ہے لیکن اگر یہ قصہ صرف روم تک ہے محدود رہتا  تو شاید اتنی اہمیت اختیار نہ کرتا- بھیڑچال کی روش کہہ لیں یا انسانی کے تخیل کی کرشمہ سازی آج کے دورمیں کم ازکم دنیا کے اسی کے قریب شہر کسی نہ کسی حوالے سے سات پہاڑوں والا شہر کہلانے کے امیدوار نظر آتے ہیں-

پاکستان میں صوبہ بلوچستان کے ساحل پسنی سے چالیس کلومیٹر دور استولا جزیرہ کا بلوچی زبان میں نام  ہی “سات  پہاڑیوں والا جزیرہ ” ہے۔

تاریخ میں اس جزیرے کا ذکر ایڈمرل نیرکوس کے حوالے سے ملتا ہے جسے 325 قبل مسیح میں سکندر اعظم نے بحیرہ عرب اور خلیج فارس کے ساحلی علاقوں کی کھوج میں روانہ کیا تھا۔

جزیرے پر موجود پہاڑیوں کی ہیئت نہایت عجیب و غریب اور منفرد ہے۔ کچھ پہاڑیوں میں غار بھی ترشے ہوئے موجود ہیں جو قدرتی ہیں۔

 لہذا یہ حقیقت کافی دلچسپ ہے کہ کس طرح سے انسانوں نے دنیا کے طول ؤعرض  میں سات پہاڑوں سے منسلک شہروں اور آبادیاں کہلوانے پر اصرار کیا- کیا یہ صرف بھیڑ چال کا نتیجہ  ہے یا  ان  دعووں میں  کوئی  حقیقت  بھی ہے- تاریخ اس حوالے سے خاموش ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سفینہ نوح کی تلاش

روایات  کے مطابق بادشاہ رومولس نے قریب  سات سو قبل مسیح میں دریایے  ٹائیبر کے مشرقی  کنارے پر روم شہر آباد کیا- شروع میں یہ سات چھوٹی پہاڑیوں پر قائم بستیاں تھیں جو رفتہ رفتہ ایک قصبے اور  پھر شہر کا روپ دھار گئیں- کچھ صدیوں کے بعد ان سات پہاڑیوں پر آباد شہر کی حفاظت کے اطراف حفاظتی دیوار بنا دی گئی جس کے آثار آج  بھی ملتے ہیں-

موجودہ دور میں یہ شہر کا  گنجان ترین علاقہ ہے اور سیاحت کے لئے معروف ہے، قرآن مجید میں بھی ایک سورت روم کے نام سے منسوب ہے۔

شیئرکريں
  • 1
    Share
ٹیگ:

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *