Type to search

فيچرڈ

آسان راستہ مجھے بھی آتا ہے، اس میں آپ کو جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں، مریم نواز

ویب ڈیسک: نواز شریف چوتھی مرتبہ الیکٹ ہونے جارہے تھے اس لیے انہیں راستے سے ہٹا دیا گیا، کسی کو قانون اور آئین پر چلنے کی سزا نہیں دینی چاہیے، سلیکٹڈ پرائم منسٹر جمہوریت کو پاؤں کے نیچے روندنے کو تیار ہوں گے، پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت 70 سال سے معطل ہے، مجھے وہ راستہ بھی آتا ہے جو آگے بڑھنے کا ہے وہ آسان راستہ ہے، جوتے صاف کرنے پڑتے ہیں، لیکن جو راستہ میں نے چنا ہے وہ مشکل راستہ ہے اور اس کی بھاری قیمت جھکائی ہے میں نے، پچھلے تین سال سے اس سب کو فیس کر رہی ہوں، میں تاریخ کی درست طرف کھڑی ہوں۔

مریم نواز کا امریکی خبر رساں ادارے وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف کیساتھ ناانصافی ہوئی ہے یہ صرف میں ہی نہیں اب پورا پاکستان کہہ رہا ہے، یہ جج صاحب خود کہہ رہے ہیں جنہوں نے میاں صاحب کو سزا دی تھی۔ پاناما سازش کے بعد 22 کروڑ کے وزیراعظم کو آفس سے نکال دیا گیا اور صرف یہیں بس نہیں ہوئی، اس کے بعد ایک جے آئی ٹی بنی جسے میں واٹس اپ جے آئی ٹی کہتی ہوں، پھر احتیاط کیساتھ ججز کو چنا گیا، احتیاط کیساتھ ججز کو چننے سے مراد یہ ہے کہ دیکھا جاتا ہے کہ کون سا ایسا جج ہے جس کا کوئی کمزور پوائنٹ ہے اور اسے اس پر بلیک میل کیا جاسکتا ہے۔ ایک پورا گیم پلین بنایا گیا، جس میں کچھ میڈیا کے لوگ بھی شامل تھے، کچھ تو وہ لوگ تھے جو ہر سیاسی شخصیت پر الزام لگانے کے لیے تیار ہوتے ہیں اور کچھ وہ جنہیں ڈرا دھمکا کر تیار کیا گیا۔ جسٹس صدیقی صاحب نے جب یہ بات عوامی سطح پر کہہ دی کے مجھ پر پریشر تھا کے مریم اور نواز شریف کو ضمانت نہیں دینی، تو آج وہ خود انصاف کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں۔

احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیوز کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرے پاس اور بھی ویڈیوز ہیں، انہیں شئیر نہ کر کے وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ میرا مقصد اداروں کیساتھ لڑائی نہیں میرا مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں قانون کی بالادستی ہو۔ کسی کو قانون اور آئین پر چلنے کی سزا نہیں دینی چاہیے، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے، جج خود کہہ رہا ہے کہ اس نے سزا غلط سنائی ہے، نواز شریف پر ایک پائی کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔

اپنی سیاسی جدوجہد پر بات کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میری سیاسی جنگ میرے والد تک محدود نہیں، مریم نواز کا والد پاکستان کا سینئر لیڈر اور تین دفعہ کا وزیراعظم ہے اور ان سے پاکستان کا آئین اور قانون جڑا ہے۔ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کو ایک الزام میں پھانسی دے دی گئی، کسی کو گولی مار دی کسی کو جلا وطن کردیا۔ میں ان سب کا مقدمہ لڑ رہی ہوں۔ پاکستان کے لوگ اس لڑائی میں جس طرح میرے ساتھ کھڑے ہیں میں ان کی بھی شکر گزار ہوں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت 70 سال سے معطل ہے، کبھی بلواسطہ اور کبھی بلاواسطہ طور پر، جس سے غیر یقینی سیاسی صورتحال سامنے آتی ہے اور اس لیے پاکستان کو بار بار بریک لگ جاتی ہے۔

مریم نواز نے عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان جمہوریت کو پاؤں کے نیچے روندنے کو تیار ہوں گے، دو ٹکوں کے اقتدار کے لیے، چند دنوں کے چند مہنوں کے اقتدار کے لیے، لیکن میرے لیے یہ ناقابل معافی جرم ہے۔ آج 22 کروڑ عوام اقتدار کے اس شوق کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔ عمران خان کو پاکستان کے لوگوں نے منتخب نہیں کیا، یہ صرف میں نہیں کہہ رہی بلکہ پوری دینا کہہ رہی ہے۔ سلیکٹڈ لفظ سے اتنا ڈر کیوں لگتا ہے، کیوں کہ یہ سچ ہے۔ صرف سچ سے ڈر لگتا ہے جھوٹ سے انسان کو ڈر نہیں لگتا۔ میرے بارے میں ہزار جھوٹ بولتے رہیں جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں تو مجھے کیا پرواہ ہے۔ جب پارلیمینٹ میں اس لفظ پر پابندی لگا دی تو اب پوری دنیا سلیکٹڈ سلیکٹڈ بول رہی ہے۔ اگر آپ سلیکٹ نہیں ہوئے تو آپ کو کیا تکلیف ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں تین طرح سے دھاندلی کی گئی، پہلے پری پول دھاندلی کروائی گئی، پھر انتخابات کے دوران نتائج روک کر دھاندلی کی گئی اور اب پوسٹ پول دھاندلی ہو رہی ہے جو اب بھی جاری ہے۔ جو کھڑا ہو کر حکومت کی نااہلی اور نالائقی پر بولے گا، اس کی زبان بند کر دی جاتی ہے، ذرا سا اداروں کی بیساکھی اٹھائیں تو یہ منہ کے بل گریں گے۔

مریم نواز نے اپنے خلاف کیسز کو انتقام قرار دیا اور کہا کہ میرا مقدمہ جیسے بھی لڑا جاتا فیصلہ میرے خلاف ہی آنا تھا کیونکہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے۔

مستقبل کے لائحہ عمل کے حوالے سے مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ نواز شریف کی رہائی، غربت، مہنگائی، تاجر برادری کے مسائل، آئین اور قانون کی بالادستی اور آزادی صحافت کے لیے لڑیں گی اور ریلیوں کی سربراہی کریں گی اور جیسے جیسے حالات تبدیل ہوں گے وہ بھی اپنا لائحہ عمل تبدیل کریں گی۔

مریم نواز نے اپنے اوپر ہونے والی تنقید کے حوالے سے کہا کہ مجھ جیسے ماحول میں کھڑی ہونے والی خاتون کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میری پارٹی تاریخی طور پر مردوں کی جماعت ہے۔ اس وجہ سے مجھے پارٹی میں خود کو منوانے کے لیے بہت محنت کرنی پڑی، مجھے تین مہینے جیل جانا پڑا جہاں میں نے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، چوہوں والا کھانا کھایا، ایک چارپائی پر گزرا کیا۔ پارٹی میں مجھے خود کو منوانے میں محنت کرنی پڑی لیکن عوامی ردعمل بہت اچھا تھا، عوام کی محبت اور سپورٹ آگے بڑھنے کا حواصلہ دیتی ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ میری کوئی ذاتی خواہش نہیں ہے، اگر میری ذاتی خواہشات ہوتیں تو میں جدوجہد کا راستہ نہ اپناتی، آسان راستہ مجھے بھی آتا ہے۔ ایک راستہ انتقامی کارروائی سے بچنے کا یہ بھی تھا کہ جوتے صاف کیے جائیں مگر میں ایسا نہیں کروں گی۔ جو راستہ میں نے چنا ہے وہ مشکل راستہ ہے اور اس کی بھاری قیمت جھکائی ہے میں نے، پچھلے تین سال سے اس سب کو فیس کر رہی ہوں۔ اہم یہ ہے کہ میں تاریخ کی درست طرف کھڑی ہوں۔ آمریت جب آتی ہے تو اعلان کیا جاتا لیکن یہ پہلی حکومت ہے جس میں جمہوریت کے ہوتے ہوئے بھی بدترین مارشل لاء ہے۔

شیئرکريں
  • 1.5K
    Shares
ٹیگ: