Type to search

عوام کی آواز فيچرڈ مذہب

گولان کی پہاڑیاں اور ریاست کی آنکھیں

تحریر : ” ابن اظہر” موجودہ اسرایئل اور  شام  کی سرحدوں پر واقع گولان کی پہاڑیاں دونوں ممالک کی بلند  ترین چوٹیوں کا مسکن ہے۔ گولان کے پہاڑی  سلسلے میں سترہ  کے قریب پہاڑیاں ہیں جن میں جبل شیخ یا مونٹ ہرمون  سب سے بلند ہے تاہم اس سوال کا جواب کہ شام  اور اسرائیل  کی بلند ترین چوٹیاں کون سی ہیں؟ خاصا گھمبیر ہے، جسکے تانے بانے 1967 کی چھ دن جاری رہنے والی عرب اسرائیل جنگ سے جا ملتے ہیں۔

اس مختصر جنگ کے نتائج ڈرامائی تھے- اسرائیل کی افواج نے جنوب مغرب میں مصر سے غزہ کی پٹی اور جزیرہ نما سینا کا صحرائی  علاقہ، مشرق میں اردن سے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم اور شمال  میں شام سے گولان کی پہاڑیاں چھین لیں-

بعدازاں معاہدوں کے تحت سینا کا علاقہ مصر کو  واپس مل گیا جبکہ مغربی کنارہ فلسطینیوں کے لئے مختص ہوا اور گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کا قبضہ ہو گیا، اس جنگ کے پندرہ سال بعد اسرائیل کی پارلیمنٹ نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالاے طاق رکھتے ہوئے ایک قانون منظور کر کے اس علاقہ کو ملک کا حصہ بنا دیا۔

جغرافیائی اعتبار سے گولان کا پہاڑی سلسلہ موجودہ شام کی شمال مغربی، لبنان کی جنوبی اور اسرائیل کی شمال مشرقی سرحد کے درمیان سات سو مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، یہ ایک سرسبز اور شاداب علاقہ ہے-

1981 کے بعد اس میں سے دو تہائی پر اسرائیل اور ایک تہائی پرشام  کا تصرف ہے- اقوام متحدہ  سمیت دنیا کے تمام ممالک سوائے امریکا کے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں ناجائز تصور کرتے ہیں۔

 

جبل الشیخ یا جبل حرمون اندازے کے مطابق نو ہزار فٹ اونچی گولان کی پہاڑی سلسلے کی سب سے بلند چوٹی ہے- اس کے متنازع ہونے کی بدولت اقوام  متحدہ کے مبصر مشن کی ایک چوکی یہاں موجود ہے  جو اپنی نوعیت کی بلند ترین چوکی ہے- اسرائیل کی دوسری بڑی چوٹی سے دوگنی اونچائی کی بدولت یہاں موسم بے حد خوشگوار رہتا ہے۔

برف باری کی بدولت اسرائیل کا اکلوتا سکینگ ریزورٹ بھی اسی پہاڑ پر ہے اور یہاں سیاحوں کا خاصا رش رہتا ہے۔ گولان کے پہاڑی علاقے کا اہم اور سب سے بڑا گاؤں مجدل شمس ہے- اسرائیلی قبضے میں آنے کے بعد اور انٹرنیٹ کے دور سے پہلے یہاں پر ایک چھوٹی سی پہاڑی ” پکارنے  والی  پہاڑی ” کے نام سے خاصی معروف ہوئی- اس  پہاڑی پر سے مقبوضہ اور تقسیم  شدہ  علاقے میں رہنے والے شامی لوگ اپنے رشتے داروں سے بات چیت کیا کرتے تھے-

کبھی یہ بات چیت چیخ کر ہوتی اور کبھی لاؤڈ سپیکر کا سہارا لیا جاتا گو کہ اب یہ پکارنے والا  پہاڑ اس  مقصد کے  لئے  استعمال  نہیں  ہو تا  تاہم  شادیوں  اور اہم  موقوں پر لوگ یہاں  آن  موجود  ہوتے – ہیں اور  اپنی اس  خصوصات کی بنا پر اب یہ پہاڑی سیاحوں کی توجہ  کا مرکز ہے

2004ء میں ایک اسرائیلی فلمساز کی بنائی ہوئی ایک ایوارڈ یافتہ فلم تھی- یہ فلم گولان کے پہاڑی سلسلے کی تقسیم اور اسکے بعد پیدا ہونے والی The Syrian Bride  صورت حال  سے متعلق  ہے جس میں یہاں رہنے والی ایک خاتون کو اپنے گاؤں پر قبضے کے بعد شام  جانے کی اجازت نہیں ملتی جہاں پر اس کا ہونے والا شوہر اسکا منتظر  ہے- شوہر کو وہ پہلے سے نہیں جانتی اور ایک بار بارڈر کراس کرنے کے بعد اسکی واپسی ناممکن ہو جائے گی۔

 اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم بن گورین ابتداء میں گولان کی پہاڑیاں شام کو واپس کرنے کے حق میں تھے تاہم کچھ عرصے  بعد وہ اپنے اس موقف سے پھر گئے کہ دفاعی نقطہ نظر سے اسرائیل کی موجودگی یہاں ضروری ہے- سیاسی اور دفاعی مقاصد کے علاوہ یہ علاقہ ایک سیاحت کے لحاظ  سے اسرائیل کا ایک نرم چہرہ دکھانے کے لئے بھی استعمال ہو رہا ہے۔

یورپین طرز کا سکینگ ریزورٹ باہر کی دنیا کے لئے ایک پرامن تاثر دینے کا کامیاب طریقہ ہے، اگر چھ دن کی جنگ میں حصہ لینے والے گولان برگیڈ کے اسرائیلی فوجی کی اس  تشبیہ کو صحیح مان لیا جائے کہ جبل الشیخ یا ماؤنٹ حرموں دفاعی نقطۂ نگاہ سے ریاست  کی  آنکھوں کی حیثیت رکھتا ہے  تو حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق گولان کی پہاڑیوں کو امریکی صدر کے نام سے منسوب کرنا گویا ریاست کی ان آنکھوں کو بینائی عطا کرنے کے مترادف ہے۔

ریاست کی وہ آنکھیں جس کی نظریں شائد اب گولان کی پہاڑیوں کے پار، محض ساٹھ کلومیٹر دور، دمشق کے تاریخی شہر پر مرکوز  ہیں۔

شیئرکريں
  • 19
    Shares
ٹیگ:

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *