Type to search

سیاست عوام کی آواز فيچرڈ نوجوان

مریم نواز ہمت اور حوصلے کی ایک مثال

تحریر : ( مدیحہ اکرام) آج کی تحریر اس بہادر بیٹی کے نام ہے جس میں کمال کا حوصلہ اور ظرف پایا جاتا ہے۔ قوم کی اس با کمال بیٹی کا نام “مریم نواز” ہے جس نے ملک کی خاطر اپنے والد کے ساتھ بہت سی تکالیف کا سامنا کیا مگر ان تکالیف کے باوجود اپنے حوصلے کو کہیں بھی پست نہ ہونے دیا اور ظلم کی ہر دیوار گرا کر ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کیا۔ مریم نواز نے اپنے والد میاں نواز شریف کی سیاست، جلا وطنی، ملکی سیاست کے اتار چڑھاؤ دیکھے اور ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

مریم نواز میں اپنے والد میاں نواز شریف کی واضح جھلک نظر آتی ہے، ان کا اندازِ گفتگو انتہائی شائستہ اور ان کا لب و لہجہ ان کے جذبے کی عکاسی کرتا ہے۔

عوام سے محبت کرنا اور عوامی محبت مریم نواز کو ورثے میں ملی۔ پارٹی کے لئے مریم نواز اس گھنے درخت کی مانند ہیں جس کا سایہ نا صرف پارٹی بلکہ ملک اور جمہوریت کے لئے بھی مفید ثابت ہو رہا ہے۔

مریم نواز کا حوصلہ قابلِ تعریف ہے وہ بغیر کسی پارٹی عہدے کے بھی مخالفین کا مقابلہ کرتی رہیں اور ان کی سازشوں کا سامنا کرتی رہیں۔ مریم نواز کو بغیر کسی جرم کے اپنے والد اور محسن پاکستان نواز شریف صاحب کے ساتھ کئی ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے، وہ اپنی بیمار والدہ کو بستر مرگ پر چھوڑ کر لندن سے پاکستان آئیں، ایسے وقت میں جب ان کی والدہ کو ان کی سخت ضرورت تھی مگر جو الزام مریم نواز اور ان کے بابا پر لگائے گئے اس کا سامنا کرنے کے لئے مریم نواز نے واپسی کا فیصلہ کیا۔

مریم نواز کو والد کی کمزوری سمجھا گیا مگر بیٹیاں والد کی کمزوری نہیں بلکہ طاقت ہوتی ہیں۔ مخالفین یہ بھول گئے تھے کہ جسے ہم کمزوری سمجھ رہے وہی میاں نواز شریف کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوگی۔ مریم نواز اور نواز شریف صاحب مخالفین کے نشانہ پر رہے مگر زبان سے حرفِ شکایت نہ کی بلکہ سن کے ان سنی کر دی اور اپنے کارکنان کو غلط الفاظ کے استعمال سے روکا۔

اصل لیڈر کی پہچان ہی یہی ہے کہ وہ نہ تو خود غلط الفاظ کا چناؤ کرے اور نہ ہی اپنے ورکرز کو ایسا کرنے کی اجازت دے۔

مریم نواز نے اپنے والد کے قدم سے قدم ملایا تاکہ ملک کو خوشحالی کا گہوارہ بنا سکیں۔ مریم نواز بغیر کسی سرکاری اور پارٹی عہدے کے عوامی خدمت کرتی رہیں اور پارٹی کو بھی بکھرنے نہیں دیا۔ مریم نواز کی بطور نائب صدر نامزدگی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے کارکنان میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا ہے۔ مریم نواز اپنے والد اور چچا کے بیانیے “ووٹ کو عزت دو” کو لے کر اپنے بھائی حمزہ شہباز کے ساتھ نکل پڑی ہیں۔ سیاسی مخالفین نواز شریف اور شہباز شریف کے بیانیے کو الگ سمجھتے تھے مگر مریم نواز اور حمزہ شہباز نے 28 مئی کو یوم تکبیر کے موقع پر بتا دیا کہ ہمارا بیانیہ بھی ایک ہے اور ہم بھی ایک ہیں۔

مریم نواز اور حمزہ شہباز کا ایک ساتھ ہر جگہ نظر آنا مخالفین کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کچھ کم نہیں۔ اگر مریم نواز میاں نواز شریف کی طاقت ہیں تو حمزہ شہباز میاں نواز شریف کا فخر ہیں۔ مریم نواز اور حمزہ شہباز کی طاقت دیکھ کر مخالفین کی ٹانگیں ہی کانپ اٹھیں ہیں اور وہ شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

مریم نواز کا سیاست میں متحرک ہونا سیاسی مخالفین کے لئے تکلیف کا باعث بن رہا ہے اور کیوں نا ہو شیر کی بیٹی میدان میں آ گئی ہے اور تمام سیاسی گیڈر اپنی ناکام سیاست کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انشاءاللہ آنے والا وقت مریم نواز شریف کا ہے۔ انتخابات وقت پر ہوں یا قبل از وقت لیکن ملک کی آئندہ وزیراعظم مریم نواز ہی ہوں گی۔

 

شیئرکريں
  • 10
    Shares
ٹیگ:
مدیحہ اکرام

مصنفہ کا تعلق مسلم لیگ نواز سے ہے اور ایک لیڈی کونسلر بھی ہیں۔

  • 1