Type to search

انسانی حقوق عوام کی آواز فيچرڈ نوجوان

پاک چین شادیاں، انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی

 

تحریر: (تحریم عظیم) پاک چین دوستی زندہ باد کا نعرہ سنتے سنتے ہمارے پہلے کی نسلیں جوانی سے بڑھاپے میں داخل ہوئیں اور اب ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر گامزن ہیں۔ جتنا ہم اس پاک چین دوستی کا دم بھرتے ہیں چینی اسی قدر اس ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی سے جان چھڑاتے ہیں۔ چین کی نوجوان نسل کو پاک چین تعالقات میں ذرہ بھر بھی دلچسپی نہیں، البتہ ان کے ماں باپ یا دادا دادی اس دوستی کے بارے میں تھوڑا بہت ضرور جانتے ہیں۔

اسی پاک چین دوستی کی وجہ سے چین کو ہمارے ہاں مقدس گائے کی حیثیت حاصل ہے۔ چین کے متعلق کچھ لکھنا یا بولنا خاص طور پر کوئی ایسی بات کرنا جو اس کا تصور میلا کرے، ہمارے حکام کے نزدیک بلاسفیمی تصور کی جاتی ہے، اسی وجہ سے ہم چین کے بارے میں وہ کچھ جانتے ہیں جو شائد چینی بھی اپنے بارے میں نہیں جانتے اور جو ہمیں ان کے بارے میں جاننا چاہیے وہ ہم سے چھپایا جاتا ہے۔ اسی لاعلمی اور غلط فہمی کی وجہ سے ہماری مسیحی برادری کی کئی لڑکیاں چین کے ایک ایسے گروہ کے ہاتھ لگیں جو انسانی سمگلنگ اور جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث تھا۔

مہک پرویز بھی ایک ایسی ہی لڑکی تھی لیکن اس نے بروقت سمجھداری سے کام لیا اور کسی بڑے نقصان سے بچ گئی۔ ایک سال قبل مہک کی کسی رشتے دار کی شادی ایک چینی نوجوان سے ہوئی۔ ہمارے ہاں ویسے ہی باہر مقیم لڑکے کا رشتہ آنکھیں بند کر کے قبول کر لیا جاتا ہے۔ ایسی لڑکی کو خوش قسمت ترین تصور کیا جاتا ہے۔ اِدھر رشتہ قبول ہوتا ہے اور اُدھر نکاح کے چھوارے بٹنے لگتے ہیں۔

مہک نے بھی اس خوش قسمتی کو حاصل کرنا چاہا اور جب چاہا جائے تو کیا کچھ نہیں مل جاتا۔ مہک کو بھی ایک چینی لڑکا مل گیا۔  مہک نہ ہی چینی لڑکے کو شادی سے پہلے جانتی تھی نہ ان پاکستانیوں کو جنہوں نے یہ رشتہ کروایا۔

اپنے اور اپنے گھر والوں کے ‘اچھے مستقبل’ کی آس میں مہک نے چینی لڑکے سے شادی کر لی۔ شادی کے فوراً بعد مہک کو فیصل آباد سے لاہور منتقل کر دیا گیا۔ لاہور کی جس کوٹھی میں مہک کو رکھا گیا وہاں اور بھی کئی ایسے ہی جوڑے رہ رہے تھے۔ صبح شام چینی زبان کی کلاسز ہوتی تھیں۔ کچھ ہی دن میں مہک کو معاملہ گڑ بڑ لگنے لگا۔ گرچہ اسے چین لے جانے کی تیاریاں تیزی کے ساتھ کی جا رہیں تھیں لیکن کچھ تھا جو اسے کھٹک رہا تھا۔

چینی زبان کی کلاسز میں گنتی یا پیسوں کے معاملات سیکھنے پر پابندی تھی۔ موبائل فون ضبط کیا جا چکا تھا۔ شروع میں تو مہک بہت روئی۔ پھر اس نے سوچا کہ مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں۔

اس نے ایسے ظاہر کرنا شروع کیا جیسے وہ چین جانے کے لیے بہت پرجوش ہے۔ آہستہ آہستہ اس پر اعتماد بڑھنے لگا۔ جلد ہی اسے موبائل فون واپس کر دیا گیا۔ ایک دن اس نے اپنے گھر والوں سے رابطہ کیا اور ان کی مدد سے وہاں سے بھاگ آئی۔

میں نے مہک سے پوچھا کہ کیا سوچ کر اس نے ایک چینی سے شادی کے لیے ہاں بھری۔ اس نے بتایا کہ شادی کے حوالے سے اس کے اپنے کوئی ارمان نہیں تھے، وہ بس اپنے گھر کے حالات بہتر کرنا چاہتی تھی۔مہک خوش قسمت تھی کہ چین پہنچنے سے پہلے ہی اسے اس گروہ کی اصلیت معلوم ہو گئی اور وہ اس دلدل میں پھنسنے سے بچ گئی لیکن بہت سی لڑکیاں اتنی خوش قسمت نہیں تھیں۔

چینی باشندوں کی پاکستانی لڑکیوں سے جھوٹی شادی کے جتنے بھی کیسز سامنے آئیں ہیں، ان میں شادی کی تحریک ان کا مذہب قبول کرنا، بڑے بڑے کاروبار اور گھر کا لالچ اور چین میں اچھی زندگی گزارنے کا خواب تھا۔ اس سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے ہاں چین اور چینیوں کے حوالے سے کتنی کم معلومات پائی جاتیں ہیں اور ہم شادی کرتے ہوئے کن چیزوں کو فوقیت دیتے ہیں۔

ہمیں اپنی ترجیحات کا دوبارہ سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چین صرف ان کے لیے اچھا ہے جو قانونی طور پر وہاں جائیں اور آنکھیں کان لپیٹ کر اپنے کام سے کام رکھیں، چین ایک جنت کی طرح قدموں تلے بچھا رہے گا۔ لیکن جیسے ہی آپ دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی کریں گے تو چینی حکام آپ کی زندگی میں دخل اندازی شروع کر دیں گے۔ زبان کے مسئلے کی وجہ سے وہاں کسی بھی تکلیف میں پڑنا اپنے آُپ میں ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔

چین میں زبان کا مسئلہ اس حد تک ہے کہ اگر آپ سڑک کنارے چیخ چیخ کر بھی پوچھ رہے ہوں کہ کیا کسی کو انگریزی آتی ہے؟ مجھے مدد کی ضرورت ہے تو کوئی آپ کی مدد کو آگے نہیں بڑھے گا۔

بڑے شہروں میں معاملہ قدرے بہتر ہے۔ نوجوان نسل کو اچھی خاصی چینی آتی ہے لیکن یہ احساسِ کمتری کا شکار ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اگر یہ انگریزی بولیں گے تو لازمی کوئی غلطی کریں گے۔ اسی شرما شرمی میں یہ سیدھا انکار کر دیتے ہیں۔ بہرحال تھوڑی سی کوشش کے بعد کوئی نہ کوئی مددگار مل ہی جاتا ہے لیکن اگر مدد کی نوعیت کچھ یوں ہوں کہ میرا شوہر مجھے مارتا ہے مجھے پولیس کے پاس لے جائو تو قوی امید ہے کہ وہ چینی اپنے کان لپیٹ کر آگے بڑھ جائے گا۔

چین میں مذہب کی اتنی ہی حیثیت ہے جتنی پاکستان میں جمہوریت کی۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہاں مذہبی لوگ نہیں ہیں، بالکل ہیں لیکن ان کی تعداد کچھ اتنی خاص نہیں، چینیوں کی بیشتر تعداد کسی مذہب کی پیروکار نہیں، جو مذہب کے ماننے والے ہیں، ان کا حال کچھ کچھ ہمارے جیسا ہی ہے۔

اپنی بیٹیوں کو ایک ایسے شخص کے حوالے کرنا جس سے آپ خود بھی بات نہ کر سکیں، ایک بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ ایک ایسے ملک میں اپنی بیٹیوں کو دھکیلنا جہاں کی ثقافت وہ نہ جانتی ہوں، یہ بھی عقلمندی نہیں ہے۔

اگر وہ وہاں کسی مسئلے کا شکار ہو بھی تو آُپ سے رابطہ کیسے کرے گی؟  ہر سوشل میڈیا ایپلیکیشن وہاں بلاک ہے۔ جب تک انسان پراکسی استعمال کر کے ان کا دوبارہ سے استعمال کرنا سیکھتا ہے تب تک ان لڑکیوں کو کہاں سے کہاں بھیج دیا جاتا ہے۔

ایف آئی اے کے ایک اہلکار کے مطابق جو لڑکیاں خوبصورت ہوتی ہیں انہیں جسم فروشی پر لگا دیا جاتا ہے اور جو خوبصورت نہ ہوں، ان کے اعضاء نکال کر بیچ دیے جاتے ہیں۔

چینی حکومت پہلے ہی اس سکینڈل کو جھوٹا قرار دے چکی ہے۔ پاکستانی حکام کی اب اس میں کتنی دلچسپی باقی رہے گی، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

اس سکینڈل کے اٹھنے کے بعد یہ بھی اندیشہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچوں کو تعلیم یا کاروبار کی غرض سے چین جانے سے روک دیں گے یا کسی ایسی شادی کی بھی مخالفت کر دیں جو واقعی میں شادی ہو۔ ہمیں اس اینگل کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے۔

 

شیئرکريں
ٹیگ: