Type to search

تاریخ سماج فيچرڈ

شادی کی تاریخ: ہم جنس شادی کب شروع ہوئی، محبت اور مذہب کا عمل دخل کتنا پرانا ہے

تاریخی شواہد کے تازہ ترین مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ شادی کی روایت کم و بیش 4,350 پرانی ہے۔ آج سے ہزاروں سال قبل خاندان غیر منظم افراد پر مشتمل ایک ادارہ تھا جس کی رہنمائی مرد کرتے تھے۔ شکار کے عہد سے انسان نے جب تہذہب کا دامن پکڑا تو ایک مضبوط اور منظم خاندان کی ضرورت محسوس ہوئی۔ تاریخ کی پہلی شادی 2350 سال قبل از مسیح ماسپوبیمیا (قدیم عراق کے گرد و نواح) میں ہوئی۔ اگلی چند صدیوں میں شادی قدیم عبرانیوں، اہلِ روم اور یونانیوں کے زیر انتظام سماجی اداروں کے ساتھ منسلک ہو گئی لیکن اس وقت تک شادی کا محبت اور مذہب کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں تھا۔

شادی کا اولین مقصد عورت کو مرد کے ساتھ جوڑنا تھا تاکہ مرد اپنی نسل بڑھا سکے۔ عورت کو مرد کی پراپرٹی یا جائیداد قرار دیا گیا۔ کوئی بھی مرد جب اپنی بیٹی بیاہ دیتا تو یہ الفاظ ادا کرتا، ’’میں اپنی بیٹی کو جائز یا مفید نسل پیدا کرنے کے لئے بیاہ دے رہا ہوں‘‘۔

قدیم عبرانی مردوں کو یہ حق حاصل تھا کہ ایک سے زائد شادیاں کریں جبکہ شادی شدہ یونانی اور رومی مرد آزادانہ طور پر اپنی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے جنس فروش، وقتی بیویوں (ایسی عورتیں جو مرد کے ساتھ رہے لیکن بیوی سے کمتر ہو) اور کم عمر بچوں سے جنسی ملاپ کرتے تھے جبکہ ان کی بیگمات کے لئے ضروری تھا کہ وہ چار دیواری تک محدود رہیں۔ شادی شدہ عورتوں کے لئے لازم تھا کہ وہ مرد کی پسندیدہ نسل پیدا کریں بصورت دیگر مرد انہیں فارغ کر کے دوسری عورتوں سے شادی کر سکتے تھے۔

شادی میں مذہب کا عمل دخل

رومن کیتھولک چرچ نے جیسے جیسے یورپ میں اپنی بنیادیں مضبوط کیں ویسے ویسے شادی کی رسومات میں پادریوں کی شرکت کو لازمی قرار دیا جانے لگا۔ اٹھارہویں صدی تک چرچ میں شادی کو انتہائی مقدس سمجھا جانے لگا اور شادی کی قانونی اور سماجی حیثیت برتر ہوتی گئی۔ چرچ کی مداخلت نے عورتوں کی زندگیوں میں وقتی آسانیاں پیدا کر دیں۔ چرچ کی مذہبی تبلیغات نے مردوں کو اس بات پر قائل کرنا شروع کر دیا کہ وہ اپنی بیگمات سے احترام سے پیش آئیں اور طلاق سے اجتناب کریں۔ مسیحی نظریات نے میاں بیوی کے رشتے کو مضبوط تر بنانے کی کوشش کی۔ چرچ کا نظریہ تھا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے جسم کے اوپر مکمل اختیار رکھتے ہیں لیکن اس وقت تک بھی چرچ نے مرد کو ہی خاندان کا سربراہ تسلیم کرتے ہوئے بیگمات کو مرد کی ہی تابع قرار دیا، یعنی مرد کی مرضی و منشا اولین حیثیت رکھتی تھی۔

شادی میں محبت کا عمل دخل

کتاب ‘بیوی کی تاریخ’ کے مصنف مارلین یالوم نے شادی اور محبت کے میل جول میں عورت کے کردار کو زیادہ اہم قرار دیا۔ بیوی کا واحد کام اپنے شوہر کی خدمت کرنا نہیں۔ انسانی جذبات و احساسات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مرد و عورت محبت کو شادی کا خمیر سمجھے۔ صدیوں تک عورت کو مرد کی کھیتی یا پراپرٹی سمجھا گیا۔ جب آباد کاروں نے پہلی مرتبہ امریکہ کا رخ کیا تو اس وقت تک بھی کثرت ازدواج یعنی ایک سے زیادہ شادیوں کا دور تھا۔ قانونی طور پر مرد ہی خاندان کا سربراہ قرار دیا گیا تھا۔ عورت شادی سے قبل اور شادی کے بعد مرد ہی کی شناخت کےساتھ جڑ جاتی تھی گویا عورت کو ہر صورت میں اپنی شناخت کو مرد یا امریکی نسل کے مرد کے ساتھ جوڑنا پڑتا تھا۔ غیر ملکی (امریکی) سے شادی کی صورت میں عورت کو فوراً شہریت سے محروم کر دیا جاتا تھا۔

 شادی بیاہ کی رسومات میں تبدیلی

1920 میں جب طویل جدوجہد کے بعد عورتوں کو ووٹ ڈالنے کا حق ملا تو یکدم شادی بیاہ کو لے کر سماجی رشتوں میں زبردست تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ خاندان رشتوں میں توازن کا عنصر شامل ہوتا گیا۔ 1960 کے آخر تک نسلی شادیوں کی خلاف ورزیوں بارے قوانین پر پابندی لگا دی گئی یعنی کوئی بھی انسان بلا تفریق رنگ و مذہب و نسل دوسرے انسان سے شادی کر سکتا تھا۔ 1970 تک قانونی اور سماجی طور پر marital rape یعنی میاں بیوی کے درمیان جنسی زیادتی کو تسلیم کر لیا گیا اور اس کی روک تھام کے خلاف قانون سازی کی گئی۔ بیسویں صدی میں شادی کے سماجی رشتے میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ پچھلے ہزاروں سالوں میں نہیں ہوئی تھیں۔ عورت مرد کی کھیتی ہے، اس فکر کی حوصلہ شکنی کی گئی اور خاندانی رشتوں سمیت شادی بیاہ کی رسومات میں تبدیلیوں نے عورتوں کی زندگیوں میں مزید آسانیاں پیدا کر دیں۔

مردوں سے مردوں کی شادی

مردوں کی آپس میں شادیوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ A.D. 54 to 68 (لاطینی کلینڈر کی رو سے حضرت مسیح کی پیدائش کے بعد) رومن شہنشاہ نے دو مرتبہ دو مختلف مردوں سے شادی کی اور شاہی عدالتوں کو مجبور کیا کہ ان دو مردوں سے ریاست شہنشاہ کی بیویوں کی طرح پیش آئے۔ دوسری اور تیسری صدی کے دوران روم میں ہم جنس پرست شادیاں زور و شور سے ہوتی رہیں جس کے متعلق یہ کہاوت مشہور تھی کہ ‘خاندان کا خوش قسمت مرد ایک مرد ہی سے شادی کرتا ہے’۔ لاطینی کلینڈر کے مطابق حضرت مسیح کی ولادت کے ساڑھے تین سو سال بعد ہم جنس پرست شادیوں پر پابندی لگا دی گئی مگر تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ اس کے بعد بھی ہم جنس شادیاں کثرت سے ہوتیں رہیں، جس کی پشت پناہی کیتھولک قدامت پرست اور لاطینی قدامت پرست چرچ کر رہے تھے۔ یونانی آرتھوڈوکس چرچ کے ۱۳ویں صدی میں ہم جنس شادیوں کی تقاریب میں باقاعدہ خدا سے شادی شدہ مرد جوڑوں کی سلامتی کی دعائیں کی جاتی رہیں۔ شیطان سے نجات اور مسیح کی والدہ مریم کے نام پر خوش بختی کی حاجتیں مانگی جاتیں رہیں۔

شیئرکريں
  • 24
    Shares
ٹیگ:
غلام نبی کریمی

اشتراکی - اشتمالی - مارکسی

  • 1