Type to search

انسانی حقوق سیاست فيچرڈ

پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کیوں ضروری ہے؟

پشتون تحفظ موومنٹ کا قیام باقی تنظیموں یا سیاسی جماعتوں کی طرح سوچے سمجھے منصوبے کے تحت عمل میں نہیں لایا گیا بلکہ حالات و واقعات اورعوامی حقوق کیلئے احتجاج کے اندر سے تحریک نے جنم لیا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد پیدا ہونے والے حالات کی سنگینی اور کراچی میں محسود قبیلے کے نوجوان نقیب اللہ کی شہادت کیخلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین جب دارالحکومت اسلام آباد پہنچے اور کئی دن تک دھرنا دیے رکھا جو تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ جس کا مطلب ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ کا ظہور ہوا ہے۔ جس طرح 1968-69 کی تحریک کے بطن سے پاکستان پیپلز پارٹی نے جنم لیا تھا۔ پیپلزپارٹی اس وقت عام عوام کی حقیقی نمائندہ جماعت بن کر ابھری تھی۔ پشتون تحفظ موومنٹ بھی مظلوم پشتون عوام کی حقیقی نمائندہ تحریک بن کر ابھری ہے۔

تحریک میں قوم پرستی کا عنصر غالب کیوں ہے؟

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک میں قوم پرستی کا عنصر غالب ہے جو کہ فطری ہے۔ کیونکہ تحریک خاص حالات میں مخصوص علاقوں سے نمودار ہوئی ہے۔ مگر یہ روایتی قوم پرستی نہیں ہے بلکہ زخم خوردہ قوم پرستی ہے جس میں غم و غصہ اوراپنے حقوق کی خواہش شدت سے موجود ہے۔ اس امر کا اندازہ پشتون تحفظ موومنٹ کو میسر آنے والی قیادت سے لگایا جا سکتا ہے کہ منظور احمد پشتین ایک عام سا نوجوان ہے جس نے کم عمری میں اپنے علاقے کے دکھ درد کو محسوس کیا اور بے وسیلہ نتائج سے بے پروا دکھی لوگوں کی اشک شوئی کیلئے چل پڑا۔

منظور پشتین کسی بڑے سیاستدان، جاگیر دار، وڈیرے یا سرمایہ دار کا سپوت نہیں

منظور پشتین کے فرشتوں کو خبر نہیں تھی کہ وہ ایک بڑی تحریک کو لیڈ کرنے جا رہا ہے۔ منظور پشتین کسی بڑے سیاستدان، جاگیر دار، وڈیرے یا سرمایہ دار کا سپوت نہیں ہے جس نے کوئی سرمایہ کاری کر کے پشتون عوام کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔ اس لئے اس پر کوئی بھی کسی بھی قسم کا الزام دھرنا نہ صرف غیرمناسب ہے بلکہ انتہائی بیہودہ حرکت ہے۔ حالات کی ستم ظریفی اور ظلم وجبر کی بے رحمی کی صورتحال کے مقابلے میں ابھرنے والی قیادت اور خالص نوجوانوں کی اس تحریک کی حمایت بالعموم تمام پاکستانیوں اور بالخصوص پنجابی عوام پر عین فرض ہے۔ آج اگر خاص کر پنجابی عوام نے پشتون تحفظ موومنٹ کے باشعور نوجوانوں کو سینے سے لگانے کی بجائے ان پر غیرملکی ایجنٹ، ملک دشمنی اور غداری کے بیہودہ الزام لگا کر دھتکار دیا تو میرے منہ میں خاک پھر وطن عزیز پاکستان کے استحکام اور سلامتی کی ضمانت کوئی بندوق اور نہ ہی آپ کا ایٹم بم دے سکے گا۔

زخم خوردہ تحریکوں کو مزید زخم دے کر دبانے کی کوشش مہلک ترین ثابت ہوتی ہے

پیداشدہ صورتحال میں پاکستان کی سلامتی کی ضمانت صرف اور صرف پنجاب ہی دے سکتا ہے۔ پشتون تحریک کے تناظر میں پنجاب اور پنجابی کو اپنا قومی کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نظرانداز کرنے یا پہلوتہی برتنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے۔ کیونکہ زخم خوردہ تحریکوں کو مزید زخم دے کر دبانے کی کوشش مہلک ترین ثابت ہوتی ہے۔ عوام اور مقتدر حلقوں کو یاد دہانی کرا دوکہ پاکستان اس تجربے سے گزر چکا ہے جس کے اثرات آج تک زائل نہیں کیے جا سکے۔ موجودہ صورتحال میں وطن پاک مزید زخم کھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ملک کے حکمرانوں، ریاستی اداروں سمیت عام پاکستانیوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ ایک فرد منظور پشتین کا نہیں ہے بلکہ پشتون تحریک کا ہے، پشتون عوام کے حقوق کا ہے، پاکستان کی سلامتی و استحکام کا ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ کا ہے۔

اہم ترین بات یہ ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ پرامن، لبرل اور سیکولر تحریک ہے۔ تحریک کی قیادت سمیت کارکنان اور وابستگان تک تعلیم یافتہ اور باشعور شہری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منظور پشتین اور پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت بہت ضروری ہے۔ پشتون ہمارے جسم کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ کوئی غیر نہیں ہیں۔ پاکستانی ہیں۔ جس طرح پنجابی، سندھی اوردوسرے پاکستانی ہیں۔

شیئرکريں
  • 1.4K
    Shares
ٹیگ:
ارشد سلہری

مصنف ایک لکھاری اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے کارکن بھی ہیں۔

  • 1