Type to search

تاریخ سیاست فيچرڈ

میں مشرقی پاکستان کو واپس اسی حالت میں بحال کر دوں گا، شیخ مجیب کا بھٹو سے خفیہ مکالمہ

ولیم مائلم نے یہ مضمون The Friday Times کے لئے لکھا تھا جس میں انہوں نے بتایا کہ ایک پاکستانی جاسوس کے مطابق شیخ مجیب الرحمان فوری طور پر بنگلہ دیش کو واپس پاکستان میں شامل کر دینا چاہتے تھے، اور ان کے خیال میں وہ پاکستان کے جائز حکمران تھے۔ اس تحریر کو نیا دور اپنے قارئین کے لئے اردو میں ترجمہ کر کے پیش کر رہا ہے۔

دو سال قبل میں اپنے ایک دوست کے ساتھ ڈنر پر بنگلہ دیش کی سیاست اور تاریخ کے حوالے سے بحث کر رہا تھا۔ اس نے مجھ سے ایک تاریخی معمے کا ذکر کیا، متحدہ پاکستان کو بچانے کی آخری کوشش ڈھاکہ میں مارچ 1971 میں کی گئی۔ اس کوشش میں اس وقت کے مشرقی پاکستان کے سیاسی رہنما شیخ مجیب الرحمان اور متحدہ پاکستان کے صدر کے ساتھ اس سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے مذاکرات کے دور شامل تھے جن کے باعث بالآخر بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ جب مذاکرات ناکام ہونے شروع ہوئے اور فوجی آپریشن کے امکانات دن بدن واضح ہونے لگے تو مجیب نے اہنے ایک قریبی ساتھی سے کہا کہ “یہاں سے چلے جاؤ”۔ ہم کبھی نہیں جان سکتے کہ اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا کیونکہ اس نے اپنی سوچوں کے متعلق کوئی دستاویزی ریکارڈ نہیں چھوڑا، لیکن اس کو اس بات کا شاید اندازہ ہو کہ مغربی پاکستان سے فوج وہاں قابض ہو جائے گی اور ایک جلاوطن حکومت قائم کرنا پڑے گی۔ پھر بھی مجیب نے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی اور جب 25 مارچ کو کریک ڈاؤن شروع ہوا تو مجیب کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان بھیج دیا گیا جہاں وہ سیاسی قیدی تھا اور ممکنہ طور پر غداری کے مقدمے کا سامنا کر سکتا تھا۔

میں نے اس کے بارے میں کہیں پڑھ رکھا ہے لیکن کبھی اس پر دھیان نہیں دیا تھا جب تک کہ میرے دوست نے اس کا ذکر نہیں کیا لیکن اس نے میرے دماغ میں ایک تاریخی معمے کے طور پر دستک دی۔ میرے خیال میں مجیب نے شاید یہ سوچا ہو گا کہ وہ ابھی بھی مغربی پاکستان سے مشترکہ معاہدہ کر کے مشرقی پاکستان کی خود مختار صوبائی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن بڑھتی ہوئی فوجی تعداد کے پس منظر میں اس قسم کا مقصد بذات خود مسئلے کا باعث تھا۔ لیکن اب یہ معمہ حل ہو چکا ہے۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کرانیکلز میں دسمبر 1971 میں مجیب کی رہائی سے متعلق ایک مضمون چھپا جس میں ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب کے مابین ملاقات کا احوال درج تھا۔ بھٹو کو مشرقی پاکستان میں شکست اور اسے کھونے کے بعد، مغربی پاکستان میں فوج نے صدر اور مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا تھا اور مقبول عوامی مطالبے کے باعث فوج واپس بیرکوں میں جا چکی تھی۔

یہ ایک انتہائی دلچسپ ملاقات تھی کیونکہ اس کا ایک گواہ موجود تھا جو حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ وہ ایک جاسوس تھا جسے مغربی پاکستان کی حکومت نے سزا یافتہ شخص کے طور پر مجیب کی جیل کی کوٹھڑی میں بطور اس کے خادم کے تعینات کیا تھا۔ اور اس گواہ کی ایک وڈیو موجود ہے جس میں وہ مجیب کے ساتھ جیل میں بتائے وقت کا احوال بتا رہا ہے۔ یہ وڈیو چند سال قبل پاکستان کے ایک ٹی وی پر بھی نشر کی گئی۔ اس وڈیو نے پاکستانیوں کی بڑی تعداد کی توجہ اپنی جانب راغب نہیں کی جس کی وجہ شاید اس وقت پاکستان میں جاری سیاسی حالات تھے جن میں نواز شریف کا مقدمہ، ان کو مقدمے میں سزا سنانا، ان کی برطرفی اور تحریک انصاف کے انتخابات وغیرہ شامل تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہی وڈیو ایک بنگلہ دیشی ٹی وی چینل پر بھی نشر کی گئی لیکن حکومت کی جانب سے فوراً اس پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ بات البتہ سنی سنائی ہے۔

مارچ 1971 میں حکمرانی کے ماڈل سے متعلق مذاکرات کے ناکام ہو جانے کے سو فیصد امکانات موجود تھے کیونکہ دونوں جانب سے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔

گواہ کے مطابق میٹنگ کے دوران مجیب نے بھٹو سے پوچھا کہ وہ وہاں کیوں آیا ہے، بھٹو نے جواب دیا کہ وہ اب پاکستان کا صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر ہے۔ مجیب نے پوچھا کہ یہ کیسے ہوا؟ بھٹو نے اسے بتایا کہ بھارت نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی، پاکستانی فوج نے ہتھیار ڈال دیے اور یحییٰ خان نے استعفا دے دیا۔ اس موقع پر، گواہ کے مطابق مجیب اپنے قدموں میں گر گیا اور چلا کر کہا (مضمون کا لکھاری کہتا ہے) یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تم صدر کیسے بن سکتے ہو؟ تم انتخابات ہارے تھے، میں اکثریت کا منتخب رہنما ہوں۔ ان عہدوں پر میرا اختیار ہے تمہارا نہیں۔ مجھے فوراً کسی ریڈیو یا ٹی وی پر لے چلو میں اس عمل سے لاتعلقی کا اعلان کر دوں گا اور مشرقی پاکستان کو اسی حیثیت میں لے آؤں گا جس میں وہ تھا۔ میں ان تمام چیزوں کو کالعدم قرار دے دوں گا اور سب ٹھیک کر دوں گا۔ میں اس گفتگو کو مجیب کے اقتباس کے طور پر نہیں استعمال کر رہا کیونکہ یہ الفاظ گواہ کے ہیں نہ کہ مجیب کے۔ میں ان الفاظ کی صداقت پر بھی اعتراض نہیں کر رہا، کیونکہ اس کے منہ میں الفاظ ڈالنے سے کوئی مقصد حاصل نہیں کہا جا سکتا۔

اس بات کی وضاحت دینے کیلئے کہ مجیب اس خبر پر اتنا حیران کیوں تھا، میں یہ بتاتا چلوں کہ مجیب کو پاکستانی جیل میں قید رکھا گیا تھا اور اس تک بیرونی دنیا کی کوئی خبر پہنچنے نہیں دی جاتی تھی۔ اس لئے اسے گوریلا جنگ کے بارے میں علم نہیں تھا، پاکستانیوں کے مختلف مظالم کے بارے میں، بھارت میں موجود ایک کروڑ پناہ گزینوں کے بارے میں، بھارتی مداخلت اور فتح، پاکستانی فوج کی شکست اور جلاوطن بنگلہ دیشی حکومت جسے وزیراعظم تاج الدین احمد کی قیادت میسر تھی کے بنگلہ دیش کی آزادی کے اعلان کے بارے میں بھی مجیب لاعلم تھا۔

کمال نے اپنی خود نوشت “کویسٹ فار فریڈم اینڈ جسٹس” میں اس ملاقات کو مجیب کے الفاظ میں بیان کرتے ہوئے صفحہ نمبر 114 پر لکھا ہے کہ مجیب نے بھٹو سے کہا کہ “تم کیسے صدر بن گئے جبکہ میں نے تم سے دو گنا زیادہ اسمبلی کی نشستیں جیتی ہیں”

میں یہ بھی کہتا چلوں کہ گواہ نے مجیب اور بھٹو کے مکالمے کی جو تفصیلات پیش کیں وہ مجیب کے کمال حسین کو بھٹو کے ساتھ ہوئی گفتگو کے بارے میں بتائے گئے احوال سے مختلف ہے۔ کمال حسین کو بھی مغربی پاکستان میں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا اور اس تک بھی خبریں نہیں پہنچتی تھیں۔ کمال نے اپنی خود نوشت “کویسٹ فار فریڈم اینڈ جسٹس” میں اس ملاقات کو مجیب کے الفاظ میں بیان کرتے ہوئے صفحہ نمبر 114 پر لکھا ہے کہ مجیب نے بھٹو سے کہا کہ “تم کیسے صدر بن گئے جبکہ میں نے تم سے دو گنا زیادہ اسمبلی کی نشستیں جیتی ہیں”، اور جب بھٹو نے اسے صدارت کی پیشکش کی (جو کہ بھٹو کی طاقت حاصل کرنے کے خبط کو دیکھتے ہوئے درست محسوس نہیں ہوتا) مجیب نے حسین کو بتایا کہ اس نے بھٹو کو جواب دیا کہ “میں اس کے بجائے بنگلہ دیش جانا چاہوں گا”۔

جاسوس کی کہانی کی تصدیق کیلئے بھی مدلل ثبوت موجود ہے، پہلا تو یہ کہ اطلاعات کے مطابق جب مجیب ڈھاکہ پہنچا تو اس نے تاج الدین احمد کو کہا کہ “تو تم نے کامیابی کے ساتھ پاکستان کو توڑ دیا”۔ بھٹو نے سٹینلی وولپرٹ کو بتایا کہ مجیب نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ صوبائی خودمختاری پر مبنی متحدہ پاکستان قائم کرنا چاہتا تھا۔ تیسرا مجیب نے انتھونی ماساکرس کو لندن میں 1972 میں بتایا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کچھ رابطہ برقرار رکھنا چاہتا تھا۔

یہ ممکن ہے، اور غیر منطقی نہیں ہے کہ مجیب اپنی جماعت کے رہنما کے طور پر متحدہ پاکستان کا سربراہ بننا چاہتا تھا۔ وہ بجا طور پر متحدہ پاکستان کا سربراہ بننے کا تصور کر سکتا تھا۔ لیکن جن حالات کو پیدا کرنے میں اس نے معاونت کی، مشرقی پاکستان اور اس کے باشندوں کیلئے مساوی حقوق کے حصول پر اصرار، چھ نکاتی ایجنڈا یہ سب اس کے برعکس چلا گیا۔

مجھے اس بات پر تعجب ہے کہ کیا مجیب کو واقعی علم تھا کہ اس نے کس عمل کا آغاز کر دیا تھا۔ اس نے ایک ایسی جماعت بنانے کی کوشش کی جو بنگلہ دیشیوں کے برابر حقوق اور مساویانہ برتاؤ کےخوابوں کی نمائندہ بن گئی۔ اس کی جماعت نے 1970 کے انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں جیتیں جس کی بنیادی وجہ چھ نکاتی ایجنڈا تھا۔ یہ ایجنڈا بہتر زندگی فراہم کرنے کی یقین دہانی پر مشتمل تھا۔ یہ ممکن ہے، اور غیر منطقی نہیں ہے کہ مجیب اپنی جماعت کے رہنما کے طور پر متحدہ پاکستان کا سربراہ بننا چاہتا تھا۔ وہ بجا طور پر متحدہ پاکستان کا سربراہ بننے کا تصور کر سکتا تھا۔ لیکن جن حالات کو پیدا کرنے میں اس نے معاونت کی، مشرقی پاکستان اور اس کے باشندوں کیلئے مساوی حقوق کے حصول پر اصرار، چھ نکاتی ایجنڈا یہ سب اس کے برعکس چلا گیا۔ یہ دراصل انقلابی منشور تھا، اور ایک انقلابی جماعت ایک سٹیٹس کو کی حامل فوجی حکومت اور مغربی پاکستان کے اس سیاسی رہنما کے خلاف برسر پیکار تھی جو یہ سمجھتا تھا کہ وہ پاکستان پر حکمرانی کرے گا۔ یحییٰ خان نے کہا تھا پاکستان مجیب نے نہیں بلکہ بھٹو نے توڑا تھا۔

مارچ 1971 میں حکمرانی کے ماڈل سے متعلق مذاکرات کے ناکام ہو جانے کے سو فیصد امکانات موجود تھے کیونکہ دونوں فریقین اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کیلئے لچک دکھانے کو تیار نہیں تھے۔ یہ مجھے امریکی سول وار کی یاد دلاتا ہے جس میں ایک فریق کا ماننا تھا کہ وہ غلامی کے بغیر نہیں رہ سکتا جبکہ دوسرے فریق کا ماننا تھا کہ وہ غلامی کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔

اور یہاں میرے نزدیک مجیب کی حالات کو نہ سمجھ پانے کی حقیقت عیاں ہوتی ہے۔ اسے اپنی افواج کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیے تھا، مغربی پاکستان کی فوج کا صبر سے انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا اور اس کا وژن ناممکن تھا (اگر یہ ایسا ہی تھا) کہ وہ وزیراعظم بننے کیلئے ڈیل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اگر وہ جلاوطن حکومت کی قیادت کر رہا ہوتا تو وہ جنگ کے خاتمے کے فوراً بعد ڈھاکہ واپس آ سکتا تھا اور معاملات اس کے قابو میں رہتے، ساتھ ہی اسے حالات کی مکمل جانکاری ہوتی۔

اس کے پاس ان قوتوں پر زیادہ اختیار ہوتا جو گذشتہ ساڑھے تین برسوں سے اسے یہ باور کروا رہی تھیں کہ وہی اصل انچارج ہے۔ شاید اسے یک جماعتی نامی نظام قائم کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی جو بالآخر اس کو موت کی وجہ بنا۔

شیئرکريں
ٹیگ: