Lahore's air pollution can be fixed but we need to have a will, says Ahmad Rafay Alam

Type to search


Environment Featured Health

Lahore’s air pollution can be fixed but we need to have a will, says Ahmad Rafay Alam

Environmental lawyer Ahmad Rafay Alam talks about air pollution in Lahore and how we can fix it. He says there are other major cities across the world that have gotten rid of the problem and there’s no reason why we can’t do it too. Initially it might seem difficult because we don’t know who will do it, but the first thing we need to realize is that this is dangerous for us and that we have to fix it, he says.

* میرا نام رافع عالم ہے اور میں ماحولیاتی معاملات کا وکیل ہوں

* اور میں آپ سے پاکستان کے شہروں میں فضا کے معیار پر بات کرنا چاہتا ہوں

* پاکستانی شہروں میں فضا انتہائی آلودہ ہے

* یہ عوامی صحت کی ایمرجنسی کی سی صورتحال ہے

* یہ مسئلہ محض لاہور کا نہیں، بلکہ یہ برصغیر کے

* شمالی میدانی علاقوں کا مسئلہ ہے اور اس کا سلسلہ بنگال تک پھیلا ہوا ہے

* یہ پورے خطے کا مسئلہ ہے

* دنیا میں کم بری یا زیادہ بری فضائی آلودگی نہیں ہوتی

* اس کی سطح کچھ بھی ہو، یہ آپ کے لئے خطرناک ہی ہوتی ہے

* یہ آپ کی زندگی کا دورانیہ کم ہی کرے گی، پھیپھڑوں کو خراب کرے گی

* آپ کے بچوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو متاثر کرے گی

* یہ حاملہ خواتین اور بوڑھے افراد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے

* اور ایسا ہو رہا ہے

* ہمیں پاکستان میں اپنی فضا کو بہتر بنانا ہوگا

* اس کے لئے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

* سب سے پہلے تو ہمیں خود کو بچانا ہے

* اس کے لئے ہمیں گھروں میں ہوا کو صاف کرنے والے آلات خریدنا ہوں گے

* ہمیں باہر نکلتے ہوئے ماسک اپنے چہروں پر لگانا ہوں گے

* صرف ایک ماسک پہننے سے ہمیں سانس کی بہت سی بیماریوں سے چھٹکارا مل سکتا ہے

Related Post:   IHC Hears Petition Seeking Lifetime Ban On PTM Leaders’ Media Appearance

* جس میں دمے اور کھانسی کے دورے، نذلہ، زکام سب شامل ہیں

* لیکن اگر ہمیں واقعی اس مسئلے کو حل کرنا ہے تو

* ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم بطور ایک معیشت کس طرح آگے بڑھ رہے ہیں

* کیونکہ فضائی آلودگی کی بنیادی وجہ ترقی کا وہ راستہ ہے جو ہم نے چنا ہے

* ہمیں حیاتیاتی ایندھن کا استعمال کم کرنا ہوگا،

* کوئلے سے چلنے والے بجلی کے کارخانوں پر انحصار کم کرنا ہوگا،

* ہمیں اپنے کوڑے اور فصلوں کو جلانا بند کرنا ہوگا

* ہمیں اپنے شہروں میں تعمیراتی منصوبوں کو مختلف انداز میں چلانا ہوگا

* تاکہ مٹی ہماری فضا کو آلودہ نہ کرے

* لہٰذا بہت سے اقدامات ہیں جو اس سلسلے میں اٹھائے جانے کی ضرورت ہے

* اور گو یہ شروع میں انتہائی مشکل نظر آ رہا ہوگا،

* کیونکہ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ سب کرے گا کون

* لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ دوسرے شہر ایسا کر چکے ہیں

* لندن، نیویارک، لاس اینجلس، سٹاک ہوم، کوپن ہیگن، بیجنگ، شنگھائی سمیت

* درجنوں ایسے شہر ہیں جہاں عوام نے بالآخر کہا کہ ’بس، بہت ہو گیا‘

* ہمیں اپنے اس ’بس، بہت ہو گیا‘ والے لمحے کی ضرورت ہے

* حل موجود ہیں، ماہرین موجود ہیں جو اسے ہمارے لئے ٹھیک کر سکتے ہیں

* لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنے دماغوں میں یہ بٹھانا ہوگا کہ یہ خطرناک ہے

* اور ہمیں اس کے لئے کچھ کرنا ہے

Share Now

Disclaimer: Naya Daur believes in providing space for views and opinions from all sides. But we may not agree with everything we publish. In case of columns and articles not published in Naya Daur’s name, the information, ideas or opinions in the articles are of the author and do not reflect the views of nayadaur.tv. We do not assume any responsibility or liability for the same.

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *