Type to search

Categorized

پاکستان کے مخصوص حالات میں سیکولرازم ناگزیر کیوں؟

  • 6
    Shares

از عبدالمجید عابد

قائد کا پاکستان کے دستور سے متعلق واضح پیغام

پاکستان کی قانون ساز اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں قائد اعظم محمد علی جناح نے کہا: آپ آزاد ہیں، آپ مندر، مسجد اور پاکستان میں کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی رکھتے ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب اور فرقے سے ہو سکتا ہے اور اس معاملے میں ریاست آپ کے معاملات میں مداخلت کا حق نہیں رکھتی۔ جناح صاحب نے پاکستان کی تخلیق کے لئے دن رات ایک کی تھی اور نئی ریاست کے لئے ان کا منصوبہ اس تقریر میں موجود تھا۔ وہ اس امر سے باخبر تھے کہ اس وقت (اگست 1947) میں پاکستان کی آبادی کا پچیس فیصد حصہ غیر مسلموں پر مشتمل تھا۔ ستر سال گزر گئے، پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا اور موجودہ اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان کی آبادی کا ستانوے فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اس موقعے پر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آیا ایک مسلم اکثریت ملک میں سیکولرازم کی جگہ موجود ہے یا نہیں۔

سیکولرازم کی خطے اور حالات کے مطابق تشریح

 سیکولرازم کو آغاز ہی سے پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسے لادینیت، فحاشی، غیر اخلاقی پن اور لاقانونیت قرار دیا جاتا رہا۔ سیکولرازم ایک سیاسی نظریہ ہے اور اس کا لادینیت سے کوئی تعلق نہیں۔ سیکولرازم کی اصطلاح نے یورپ میں نشاۃ ثانیہ کے دوران  پاپائیت کے متضاد نظریے کے طور پر جنم لیا۔ یاد رہے کہ سیکولرازم ایک مخصوص نظریہ نہیں بلکہ مختلف ممالک میں اس کی تشریح مخلتف طرح کی گئی ہے۔ فرانس میں سیکولرازم Laïcité نامی نظریے کا شاخسانہ ہے جب کہ امریکہ، ہندوستان اور ترکی میں سیکولرازم دستوری طور پر نافذ ہے۔ Laïcité کے مطابق حکومتی معاملات میں مذہب کا عمل دخل نہیں ہو گا۔ امریکی دستور کے مطابق کانگرس کسی مذہب کی حمایت میں اور کسی مذہب کی مخالفت میں قانون سازی نہیں کر سکتی۔ ہندوستان کے قانون کے مطابق قانون سازی کے دوران مذاہب کے درمیان تفریق نہیں ہو گی۔ ترکی کے دستور کے مطابق شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے لیکن مذہبی جماعتوں کو سیاسی جماعت بنانے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ ہمارے ہاں سیکولرازم کو لادینیت اور اسلام دشمنی سے جوڑنے میں مولوی عبدالحق اور مودودی صاحب کا کردار واضح رہا۔ ایک مسلم اکثریت ملک میں اس نوع کی لفظی ہیر پھیر نے سیکولرازم پر بحث کا دروازہ بند کر دیا۔

پاکستان میں سیکولرازم کو درپیش چیلنج

 پاکستان میں سیکولرازم کے داعیوں کے لئے ایک بڑا چیلنج یہ دکھانا ہے کہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر قائم کردہ ملک میں سیکولرازم کی ممکنہ شکل کیا ہو گی؟ میری ذاتی رائے میں پاکستانی سیکولرازم کا مطلب رواداری، بھائی چارہ اور ایک غیر متعصب ریاست ہے۔ ایک ایسی ریاست جو مسلمانوں، غیر مسلموں، شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی، احمدی، اور پارسی میں تفریق نہ کرے اور سب کی حفاظت کا ذمہ اٹھائے۔

پاکستان میں سیکولرازم کی ضرورت

فرقہ واریت اور مذہبیت کے معاملات میں ریاست کسی ایک فریق کی حمایت نہ کرے۔ جدید ٹیکنالوجی اور ترقی کے دور میں ہم فروعی اختلافات پر اپنے ہم مذہبوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ تعصب زدہ قانون سازی اور جانبدارانہ رویوں کے باعث پاکستان اس وقت اقلیتوں کے لئے ایک تپتی بھٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اقلیتوں کے تحفظ اور قانون کی علم برداری کے لئے ہمیں سیکولرازم کا راستہ اپنان پڑے گا۔

Tags:

1 Comment

  1. وجاہت April 14, 2018

    بھارت جہاں پچھلے ستر سال سے سوائے 1975 سے 1977 کے درمیان 21 ماہ کی جزوی ایمرجنسی کے علاوہ مکمل جمہوریت ہے جو کامل سیکیولر بنیادوں پر کھڑی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ وہاں آج تک مذہبی تفریق کا خاتمہ ممکن نہیں؟ خاتمہ تو دور کی بات اس میں کمی بھی نہیں بلکہ اس میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ گذشتہ بیس برسوں میں 2 ادوار میں ہندو انتہاء پنسدوں نے مرکز سمیت قابل ذکر ریاستوں میں حکومتیں کیں جس میں گذشتہ دور کے مقابلہ میں نمایاں اضافہ ہوا جس میں سب سے بڑی ریاست یوپی اور شمال مشرقی 8 ریاستوں میں سے 5 میں پہلی بار ان کی حکومت قائم ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں مذہبی شدت پسندی اب کھلم کھلا دہشتگردی میں تبدیل ہوچکی ہے جس سے مسلمان سمیت ہر مذہبی اقلیت براہ راست متاثر ہورہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ آنے والے انتخابات تین نکات پر لڑے جائیں گے جو اپنی اہمیت اور مقبولیت کے لحاظ سے بالترتیب اس طرح ہیں؛ ہندوتّوا یعنی ہندو راج جس میں کسی دوسری اقلیت کو بنیادی حقوق تو درکنار بھارت میں رہنے کا بھی حق نہیں وہ یا تو ہندو بن جائیں یا اپنا مذہب ظاہر نہ کریں ورنہ بھارت چھوڑ دیں نہیں تو انہیں ختم کردیا جائے گا، دوسرے نمبر پر پاکستان دشمنی ہے جس میں پاکستان سے فیصلہ کن جنگ مقصد ہے اور سب سے آخر میں تیز رفتار معاشی ترقی ہے جسے ہونا تو پہلے نمبر پر چاہیئے تھا مگر کیا کیجیئے کہ وہاں مروج نام نہاد سیکیولرازم میں وہ اپنی اصل حیثیت منوا نہ سکی۔ اگر یہی کچھ ہم سے بڑے، زیادہ تعلیم یافتہ اور کہیں ترقی یافتہ معاشرہ میں سیکیولرازم کی چھتر چھایہ میں ہورہا ہے تو بھائی ہم یہاں کس یوٹوپیا کے خواب دیکھ رہے ہیں؟ ہم مذہبیت پر مبنی آئین و قوانین کے باجود حکومتی و معاشرتی دونوں لحاظ سے سوائے ہمہ شمہ کسی مذہبی جنون کا شکار نہیں اور جو ہیں وہ بھی اس انتہائی درجہ کے بخار میں مبتلاء نہیں تو کیا کرنا ایسے سیکیولرازم کا؟؟

    Reply

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.