Type to search

عوام کی آواز

جاگ پنجابی جاگ

از سعدیہ اعوان

دبئی سے لوٹے آج دوسرا دن ہے۔ جی ہم وطن واپس سدھار چکے ہیں۔ آزادی کس بلا کا نام ہے ہم اب بخوبی جان چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں رہنے والے دوست اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ وہاں بات کرنے پر کس طرح زبان کٹتی ہے۔ شیشے اور کنکریٹ کی فلک شگاف عمارتیں چمکتی تو ضرور ہیں لیکن اپنے اندر سموئے ہوئے تاریک دکھوں سے لاتعلق ہیں۔ جن مزدوروں کا خون پسینہ ان میں شامل ہے انہیں نہ آپ جانتے ہیں نہ ہی ہم کسی بھی آشنائی کا اظہار کریں گے۔ کسی کو جیل کی ہوا کھانے اور اپنی عمر بھر کی جمع پونجی آواز حق بلند کرنے کے پیچھے لٹانے کا قطعی شوق نہیں۔

گھر کو لوٹے تو آزادی سے لکھیں گے

بیس اپریل کا دن تو ائرپورٹ اور جہاز کے آگے پیچھے ہی ختم ہو گیا۔ اپنی سہیلی مہوش سے بچھڑنے کا غم تو تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنی ہمہ وقت خود مختاری سے دوری کا قلق بھی تھا۔ وہاں تو جب دل کیا گھر سے نکلے اور جب جی چاہا تب ہی واپس لوٹے۔

بشکریہ وزیر جانی

جانتے تھے کہ وطن عزیز میں یہ عیاشی میسر نہ ہو گی۔ بہرحال یہ تسلی ضرور تھی کہ اپنا ملک ہے۔ جو جی چاہے گا لکھیں گے اور خوب اکڑیں گے۔ ایک لکھاری کی واحد متاع یہی تو ہے۔ ہم نے بہت سے پلان بھی بنائے تھے۔ ان میں سے ایک تو اکیس اپریل کو لاہور میں ہونے والے پشتون مارچ میں حاضری لگانے کا تھا۔

پشتونوں سے رشتہ کیا؟

منظور پشتین جو شروع میں ایک دیوانہ سا نوجوان لگتا تھا اب ایک طوفان کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ واضح کرتے چلیں کہ ہمارا پختونوں سے بس اتنا ہی تعلق ہے کہ والدہ کے یوسفزئی آباؤ اجداد جانے کتنی صدیاں پہلے دلی سدھارے تھے۔ ہماری شناخت کیا ہے ہم نہیں جانتے۔ بس اتنا پتہ تھا کہ یہ شخص جس لڑائی کے لئے نکلا ہے وہ صرف پشتونوں کی نہیں ہم سب کی ہے۔

بشکریہ طوبیٰ سید

پنجاب سے گلہ کیوں؟

READ  موسمیاتی تبدیلی

اس کی باتوں میں جہاں ان داتاؤں کے خلاف غم و غصہ تھا وہیں بڑے بھائی پنجاب سے گلہ بھی تھا۔ ہم بذات خود جا کر اپنے ان تمام بھائیوں کو بتانا چاہتے تھے کہ اسی پنجابی اشرافیہ کے ہاتھوں ذلیل تو عام پنجابی بھی ہوا ہے۔ یہ غم سانجھا ہے۔ یہ لڑائی صرف تمہاری نہیں۔

یہ کوئی دبئی تھوڑا ہے

یہ کوئی دبئی کا مزدور تو تھا نہیں جو اپنے حقوق کے لئے کھڑا نہ ہو سکے یا جس کے ساتھ کھڑا ہونے والا بھی خود کو نہ بخشوا پائے۔ یہ تو پاکستان تھا۔ یہاں تو جمہوریت ہے۔ جو جی چاہے کہیں گے۔ مزاحمت تو اس خطے کی ریت ہے۔ روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں۔

مگر دبئی سے کچھ مختلف بھی نہیں

خیر صاحب کل ہی معلوم ہوا کہ سعدیہ بی بی منہ دھو رکھو۔ تمہارا یہاں بھی وہی مقدر ہے جو دبئی میں تھا۔ اپنی زبان پر یہاں بھی تالہ چڑھا رکھو۔ پشتون تحفظ موومنٹ کے لیڈروں کو تو پنجاب حکومت نے گرفتار کر لیا ہے۔ تم کس کھیت کی مولی ہو بی بی؟

پابندی پشتونوں پر نہیں، پر امن احتجاج پر ہے۔ ورنہ خادم رضوی کو تو ساتھ عیدی بھی دی تھی

بھلا ہو پنجاب حکومت کا جس نے اپنے ان بھائیوں کی تحریک کو مزید تقویت بخشی۔ ان کے اس احساس محرومی کو مزید دوام بخشا (اپنے اقتدار کو بھی) کہ ہاں پنجاب میں یہی ہونا تھا۔ بجائے اس کے کہ ان کو گلے لگا کر ان کے آنسو پونچھے جاتے یہاں تو قصہ ہی ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ سیاسی حکومت نے انتہائی غیر سیاسی حرکت کی۔ گالم گلوچ کرنے والے ملا کو نہ صرف دھرنے کی اجازت دی بلکہ جاتے ہوئے عیدی کا تحفہ بھی دیا۔ شاید یہ پابندی پشتونوں پر نہیں بلکہ پر امن احتجاج پر تھی۔ منظور بھائی ذرا دنگا فساد اور گالم گلوچ کریں تو ان کو بھی پھولوں کے ہار پہنائے جائیں گے۔

READ  چور کی داڑھی میں تنکا: الزام لگنے سے پہلے ہی تحریکِ لبیک نے کی بورڈ سنبھال لئے

دل چھوٹے اور جیلیں بڑی

ایک ادنیٰ شہری ہونے کے ناطے ہماری حکومت سے یہی گذارش ہے کہ یا تو بڑے بھائی کا فرض ادا کیا جائے یا آئین میں یہ لکھ دیا جائے کہ کسی نے بھی اپنے حقوق کی آواز اٹھائی تو اس کی ایسی کی تیسی۔ ہمارے دل چھوٹے ہیں اور جیلیں بڑی۔

باقی اپنے پشتون بھائیوں کو اس عام پنجابی بہن کا یہی کہنا ہے کہ:

لالی اکھاں دی پئی دسدی اے روئے تسی وی او روئے اسی وی آں

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.