Type to search

عوام کی آواز

میشا شفیع کے علی ظفر پر الزامات، پاکستان کا ہاروی وائینسٹین مومنٹ یا کچھ اور؟

از مہوش اعجاز

‏گالیاں جب ترتیب دی گئی ہونگی، تو سوچنے والے نے نجانے کس دھن میں تیری ماں، تیری بہن کا نکتہ چن کے غلاظت بھری ایک مالا پروئی ہوگی۔ سوچنے والا بھی سوچتا ہوگا کہ بتاؤ کونسی ایسی شے ہے جس پہ گالی بنائی جائے تو گالی کھانے والا بھی شرمندہ ہو اور اس کے آس پاس کے لوگ بھی نشانے پہ رہیں۔

‏شرم اور غیرت تو عورت سے مشروط رہی ہے ہی۔ مرد حضرات کی بھی غیرت ان کی بہن اور ان کی بیٹیوں کے اعمال سے پیوستہ ہے۔ قتل و غارت کے جو بازار مرد حضرات نے غیرت کے نام پہ گرم کیے ہوئے ہیں، اور جتنی آسانی سے وہ معافی مانگ کے اس گناہ سے بری ہو جاتے ہیں، اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ غیرت اور گالیوں کو عورت کے نام سے جوڑے رکھنے میں مرد حضرات کا فائدہ بھی ہے، اور چھٹکارا بھی۔

میشا شفیع کا علی ظفر پر الزام

‏اب سے کچھ دیر پہلے، سمجھیے کہ اس  ہنگامی دور میں سوشل میڈیا کے توسط سے کیا سے کیا ہو جاتا ہے، میشا شفیع نے علی ظفر کے بارے میں ٹویٹ کیا کہ وہ علی ظفر کے ہاتھوں ہراسانی کا نشانہ بنی ہیں۔

پاکستان کا ہاروی وائینسٹین مومنٹ؟

‏دنیائے فنون لطیفہ میں کھلبلی مچ گئی۔ لوگ حیران و پریشان ہو گئے۔ علی ظفر؟ جو سب کے اتنے پیارے جانے مانے ہوا کرتے تھے؟ جنہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے اکثر آواز اٹھائی۔ ارے یہ تو گانے والے، تصویریں بنانے والے، فلموں میں چاکلیٹی ہیرو کے طور پہ کام کرنے والے ہیرو تھے؟ اور میشا؟ خوبصورت گلوکارہ، اداکارہ اور ماڈل جن کا تعلق پاکستان کے بہت جانے مانے خاندان سے ہے؟ کیا یہ واقعی ہو رہا ہے؟ پاکستان کا ہاروی وائینسٹین مومنٹ؟

‏مگر جب حیرانگی کے بادل چھٹے تو گالیوں کی موسلا دھار بارش شروع ہوئی جس میں گہری گرج چمک کے ساتھ علی ظفر کے ساتھی بول پڑے۔ پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلوں نے بات پہ دس ہری مرچیں اور چسپاں کیں۔ انڈسٹری کے کچھ لوگوں نے میشا کی شخصیت پہ سوال اٹھائے۔ ماسوائے ایک دو خواتین کے، میشا کی مدد کو کوئی نہ آیا۔ نوکر کی تے نخرہ کی؟

بشکریہ fashioncentral.pk

سب پیسے کی گیم ہے

READ  جاگ پنجابی جاگ

عرویٰ حسین اور عثمان خالد بٹ میشا کے ساتھ کھڑے ہوئے جبکہ علی ظفر کی آنے والی فلم کے ہدایتکار احسن رحیم اور ان کی فلم کی ساتھی اداکارہ مایا علی علی ظفر کے دفاع کو پہنچیں۔ کیا آپ بھی وہی دیکھ رہیں ہیں جو نظر آ رہا ہے؟ سب پیسے کی گیم ہے۔

سوشل میڈیا پہ ایک عجیب و غریب تماشہ لگ گیا۔ میشا اور علی کی تصاویر دکھائی جانے لگیں۔ “ارے۔ اس میں تو کیسے آرام سے کھڑی ہے۔ الزام کیسے لگا رہی ہے۔ ثبوت لائے نا! ٹویٹر پہ کیوں بولی!”

میشا جیسی لڑکیاں تو ہوتی ہی بےغیرت ہیں۔ علی تو باپ ہے، بھائی ہے۔ علی تو خوبصورت ہے۔ میشا تو بس سستی شہرت چاہتی ہے۔

راہ چلتی کو چھیڑنا معمول اور کوئی بولے تو کہتے ہیں سستی شہرت

‏ارے بھائی۔ ذرا نظر گھماؤ۔ یہ “عزت” کسے پیاری ہوگی؟ جس ماحول میں مرد حضرات سے کھانا گرم کرنے کی درخواست پہ ہفتوں لوگ آگ بگولہ رہتے ہوں اور اپنے جسم پہ اپنا حق رکھنے کو آوارگی میں شمار کیا جاتا ہو جبکہ اسی ماحول میں مردوں کا عورتوں کو گھورنا، سڑک پہ چھیڑنا، بیویوں کو مارنا اور اپنی پسند کی شادی کرنے پہ اخباروں کی بےشمار سرخیاں موجود ہوں، وہاں میشا شفیع جیسی لڑکی کا اپنے ساتھ ہونے والی ہراسانی پہ آواز اٹھانا بہادری سے کم نہیں۔

شبانہ اعظمی ورلڈ اکنامک فارم پر، بشکریہ وکی پیڈیا

“پہلے جو لوگوں کو لگتا تھا لڑکی چپ ہوجائے گی، اب ایسا نہیں ہے۔”

‏میشا کے بعد کئی خواتین سامنے آئیں، جنہوں نے علی ظفر کے ساتھ ہونے والے اپنے واقعات کی تفصیل بتائی۔ پھر علی کی چند پرانی ٹویٹوں پہ جب نظر پڑی تو بہت شرمندگی ہوئی۔ بھلا ایسی گھٹیا سوچوں کو اسی وقت کیوں نہ پکڑا؟ مگر یہ تو وہی بات ہوئی نا۔ پہلے کیوں نہیں بولیں تم، میشا؟

‏کیا بول سکتا ہے کوئی جو ہراساں ہو رہا ہو؟ جب آپ کے ساتھ کام کرنے والا ایک معزز اداکار اپنی زبان یا اپنے ہاتھ سے آپ کو ہراساں کر رہا ہو، جب آپ کو بھی معلوم ہے اور آپ کو پدرانہ نظام نے سمجھایا بھی ہو کہ کچھ مت کہو، الزام لگاؤ گی تو کیچڑ خود پہ ہی اچھلے گا، تو زبان پہ تالا کیسے نہ پڑے؟

READ  صوابی، خیبر پختونخوا میں سکول جاتے ہوئے بچے

‏کچھ ماہ پہلے میری ملاقات شبانہ اعظمی سے ہوئی تھی جن سے میں نے “می ٹو” کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ “پہلے جو لوگوں کو لگتا تھا لڑکی چپ ہوجائے گی، اب ایسا نہیں ہے۔”

وہ خاموش اس لئے تھے کہ ان کی کون سنے گا

‏آج جب لوگ اس معاملے پہ لکھتے ہیں تو کہتے ہیں محتاط رہ کے لکھیے۔  کسی کی سائیڈ مت لیجیے۔ دیکھیئے میشا بڑی بدتمیز ہے۔ اور ہم کہتے ہیں، ارے بہن، ارے بھائی، ہماری بلا سے، وہ دنیا کی سب سے بدتمیز خاتون کیوں نہ ہو۔ سوال تو نہ میشا کے کردار کا ہے، نہ ان کی بدتمیزی کا، نہ ان کی غیرت اور شرم کا۔ سوال تو ہے کہ ایک شخص کے بارے میں ایک سٹیٹمنٹ آتا ہے اور پھر اس کی حرکتوں پہ سے حجاب اٹھ جاتا ہے۔ اور پھر سچ بولنے والے اور سامنے آتے ہیں۔ کیونکہ وہ خاموش اس لئے نہیں تھے کیونکہ ان کو سستی شہرت کی تلاش تھی۔ وہ خاموش اس لئے تھے کہ ان کی کون سنے گا۔ ان کی دھیمی دھیمی آوازوں میں کہاں دم ہے؟ ہاں جب میشا کے با آواز بلند نعرے میں یہ بقیہ آوازیں بھی شامل ہوئی ہیں، تو اب یہ شور اتنی آسانی سے ٹلنے والا نہیں۔

اب ایسا نہیں چلے گا

‏جن غیرت اور ماں بہن کی گالیوں سے مرد خواتین کو ہراساں کرتے رہے ہیں، یا اپنے طاقتور اور کامیاب ہونے کے گھمنڈ کے پیچھے اپنی کم ظرفی چھپائے رکھتے ہیں، آج وہی طاقت اور وہی کامیابی آپ کے پاؤں کی سب سے بڑی بیڑی بن چکی ہے۔ “می ٹو” سے تمام تر طاقتور اور با اثر حضرات شاید جیل کی سلاخوں کے پیچھے تو نہ جا سکیں، لیکن کم از کم اس خوف سے اپنی غلطیاں تو سدھار سکتے ہیں کہ ٹویٹر کے چند کیرکٹر میں آپ کا سالوں کا کیرکٹر دنیا جہاں کے سامنے پیش کر دیا جائے۔

Tags:

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.