Type to search

Categorized

خواہ مخواہ ڈاکٹرائین

(کنور خلدون شاہد)

کچھ تِین ہفتے قبل سلامتی سے منسلک ایک تہلکہ خیز اعلان کرنے كے لیے 30 لوگوں کا انتخاب کیا گیا۔ معاملے کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے امیدواروں کی فہرست بالکل مختصر رکھی گئی۔ لہذا واٹس ایپ گروپ ’محب وطن لونڈے‘ سے باہر کسی کو دعوت نہیں دی گئی۔

لیکن اب چونکہ اس گروپ ’محب وطن لونڈے‘ كے ممبران 69 تھے اور دفاعی بجٹ میں سے بوفے محض 30 لوگوں کو کھلایا جا سکتا تھا، تو انتخاب كے لیے مضمون نویسی کا مقابلہ رکھا گیا۔ اس طرح نہ صرف 30 بہترین مصنفین کو مدعو کیا گیا، اول نمبر پر آنے والی تحریر کو ایک نامور انگریزی اخبار كے اتوار ایڈیشن كے صفحہ نمبر 4 پر بھی چھپوایا گیا۔

چونکہ معاملہ سلامتی کا تھا اور گروپ ’محب وطن لونڈے‘  میں مقابلہ سخت، تو مضمون کا موضوع بھی اسی مطابقت سے تھا۔ مضمون کا موضوع تھا، “میرے خیال میں آج کی تقریب میں مقرر یہ کہیں گے”۔ جی البتہ مضمون چھاپتے ہوئے اس کا عنوان تہلکہ خیزی کو مد نظر رکھتے ہوئے حسب ذائقہ تبدیل کر دیا گیا اور اِس طرح سلامتی سے متعلق بڑا اعلان بھی ہو گیا، ایک بہترین مصنف کو اس کا انعام بھی مل گیا، ’محب وطن لونڈے‘  کی صفحہ بندی بھی ہو گئی اور اس واٹس گروپ کو اپنی نئی ڈی پی بھی مل گئی۔

لیکن جب سب ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہے تھے تو اچانک نہ صرف گروپ دشمن عناصر نے 18 مارچ کو چھپے ہوئے اس مضمون کو پڑھ لیا، بلکہ اِس پر اینٹی گروپ سوالات بھی اٹھانے شروع کر دیے۔ حالانکہ یہ مضمون دائمی دفاع کی عکاسی کرتا ہے، لیکن فی الحال اِسے اپنے دفاع كے لالے پڑ گئے۔

صورت حال کس قدر قمر توڑ ہو گئی، یہ واضح کرنے كے لیے مضمون كے چند منتخب اقتباسات پیش خدمت ہیں۔

“مقرر نے کہا کہ امن کا حصول ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں، لیکن اگر امن سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی ٹیڑھی کرنی پڑتی ہے۔ اور یہاں انہوں نے ہم سب کو انگلی دکھائی۔”

“انہوں نے کہا کہ اگر سب ان کے نظریے کے مطابق چلیں گے اور ان کے بنائے گئے سانچے میں خود کو ڈھال لیں گے تو انہیں کسی سے کوئی اختلاف نہیں ہوگا۔ اور انہوں نے یہ راز بھی فاش کر دیا کہ اختلاف نہ ہو تو عموماً جنگ کا ہونا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر ہال میں موجود اتری ہوئی شکلیں دیکھ کر یقین دہانی کی کہ یہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں۔”

“یہ ڈاکٹرائین وہی ہے جو ہم برسوں سے سنتے آ رہے ہیں لیکن مقرر کے مبارک منہ سے اس کی مقدس تقریر سننے کی بات ہی اور ہے۔ اور اب چونکہ ہم ڈاکٹرائین سمیت کئی مزید گمراہ کن اور مبہم الفاظ استعمال کریں گے تو لوگ اسے کوئی توپ شے سمجھیں گے اور باقی گروپوں میں اس کے چرچے ہوں گے۔”

اب بظاہر تو اس تحریر کا دفاع کوئی آگ کا دریا نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ مصنف کا یہ کہنا کافی ہوتا کہ انہوں نے تو مقابلے کے طے شدہ اصول و قوانین کے مطابق تقریر کے ممکنہ مواد پہ بس تکے لگائے تھے۔ پر ہوا کچھ یوں کہ مقابلے کے باقی شرکاء جن کے تکے انعام حاصل نہ کر سکے انہوں نے اپنے تکوں کو اپنی دکانوں میں نشر کرنا شروع کر دیا۔

چونکہ ان نشریات میں باہمی موازنے کا شدید فقدان تھا تو نہ صرف وہ شائع کیا گیا مضمون سوالات کی لپیٹ میں آ گیا، بلکہ ’محب وطن لونڈے‘  کی اعلی قیادت کی سرپرستی میں کروائے گئے اس مضمون نویسی کے مقابلے کی ساکھ پر بھی کیچڑ اچھلنے لگا۔ اور ظاہر ہے اس تحریک میں سب سے آگے اس واٹس ایپ گروپ کے ممبران کرام ہی تھے جنہوں نے “دھاندلی” کے خلاف ہلا بولتے ہوئے ڈیجیٹل دھرنا دینے کا اعلان کر دیا۔

ایسے میں ’محب وطن لونڈے‘  کی بقا اور گروپ میں امن و امان کے قیام کے لئے ایڈمن کو حسب معمول نہ چاہتے ہوئے ایمرجنسی نافذ کرنی پڑی اور کئی ممبران کو نااہل قرار دے کر گروپ سے باہر نکالنا پڑا۔

گروپ ’محب وطن لونڈے‘ کے ایڈمن گروپ میں گندے لطیفے اور مضحکہ خیز بیانات کے لئے کافی مشہور ہیں۔ اکثر انہی لطیفوں کو وہ پریس ریلیز کی شکل دے کر شائع کر دیتے ہیں۔ پر یہ مسئلہ ذومعنی جگتوں کے زمرے سے باہر تھا۔

گروپ ’محب وطن لونڈے‘ کے مفادات پر اعلیٰ قیادت کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ یہ بات باقی واٹس ایپ گروپوں کو اب سمجھ لینی چاہیے” یہ بات ایڈمن صاحب نے کانفرینس کال میں کہی۔ انہوں نے اپنے گروپ کے بقایا ممبران کو یہ تسلی بھی دی کہ ’محب وطن لونڈے‘  کی ممبرشپ کے انتخابات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ ڈاکٹرائین کو حتمی طور پر واضح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اب اس موضوع پر جو وہ خود کہیں صرف اس کو سنا جائے اور باقی تمام معلومات رد کر دی جائیں۔

“اس ڈاکٹرائین میں اتنا چونکا دینے والی تو کوئی بات نہیں تھی۔ آپ لوگوں نے خواہ مخواہ ہی بات کا بتنگڑ بنا دیا۔”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Comment moderation is enabled. Your comment may take some time to appear.

Naya Daur